بے طلب بھیک یہاں ملتی ہے آتے جاتے | یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے | Betalab Bheek Yahan Milti Hai Aate Jate Lyrics in Urdu
بے طلب بھیک یہاں مِلتی ہے آتے جاتے
یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے
یہ ہے آقا کی عنایت، وہ کرم کرتے ہیں
ورنہ ہم جیسے کہاں در پہ بُلائے جاتے
وہ میرے دل کے دھڑکنے کی صدا سُنتے ہیں
اِس لِیے لفظ زباں پر نہیں لائے جاتے
اُن کی دہلیز کے منگتے ہیں، بڑی موج میں ہیں
ہم سے اغیار کے ٹُکڑے نہیں کھائے جاتے
یہ تو سرکار کی رحمت نے ہمیں تھام لِیا
ورنہ در در پہ یوں ہی ٹھوکریں کھائے جاتے
وہ نقابِ رُخِ روشن جو اُٹھاتے جاتے
میری بِگڑی ہوئی تقدیر بناتے جاتے
کاش ! اپنا بھی مدینے میں کوئی گھر ہوتا
دیکھتے روضۂ سرکار کو آتے جاتے
شہرِ سرکار کی ہم خاک کے ذرّے ہوتے
آپ کی راہ میں بِکھرے ہوئے پائے جاتے
اپنا مدفن بھی مُقَدّر سے جو بن جاتا بقیع
حشر میں آپ کے قدموں سے اُٹھائے جاتے
قافلے والو ! ذرا ٹھہرو، میں آتا ہُوں ابھی
ایک اور نعت سُنا لُوں اُنہیں جاتے جاتے
شمعۂ دین نہ اِس شان سے روشن ہوتی
خُونِ اصغر سے نہ گر دیپ جلائے جاتے
ہم کہاں ہوتے، کہاں ہوتی یہ محفل، الطاف !
خاکِ کربل پہ اگر سر نہ کٹائے جاتے
شاعر:
سید الطاف شاہ کاظمی
نعت خواں:
سید الطاف شاہ کاظمی
خالد حسنین خالد
سید عبد الوصی قادری رضوی
یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے
یہ ہے آقا کی عنایت، وہ کرم کرتے ہیں
ورنہ ہم جیسے کہاں در پہ بُلائے جاتے
وہ میرے دل کے دھڑکنے کی صدا سُنتے ہیں
اِس لِیے لفظ زباں پر نہیں لائے جاتے
اُن کی دہلیز کے منگتے ہیں، بڑی موج میں ہیں
ہم سے اغیار کے ٹُکڑے نہیں کھائے جاتے
یہ تو سرکار کی رحمت نے ہمیں تھام لِیا
ورنہ در در پہ یوں ہی ٹھوکریں کھائے جاتے
وہ نقابِ رُخِ روشن جو اُٹھاتے جاتے
میری بِگڑی ہوئی تقدیر بناتے جاتے
کاش ! اپنا بھی مدینے میں کوئی گھر ہوتا
دیکھتے روضۂ سرکار کو آتے جاتے
شہرِ سرکار کی ہم خاک کے ذرّے ہوتے
آپ کی راہ میں بِکھرے ہوئے پائے جاتے
اپنا مدفن بھی مُقَدّر سے جو بن جاتا بقیع
حشر میں آپ کے قدموں سے اُٹھائے جاتے
قافلے والو ! ذرا ٹھہرو، میں آتا ہُوں ابھی
ایک اور نعت سُنا لُوں اُنہیں جاتے جاتے
شمعۂ دین نہ اِس شان سے روشن ہوتی
خُونِ اصغر سے نہ گر دیپ جلائے جاتے
ہم کہاں ہوتے، کہاں ہوتی یہ محفل، الطاف !
خاکِ کربل پہ اگر سر نہ کٹائے جاتے
شاعر:
سید الطاف شاہ کاظمی
نعت خواں:
سید الطاف شاہ کاظمی
خالد حسنین خالد
سید عبد الوصی قادری رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں