میرے آقا مدینے میں مجھے بھی اب بلا لیجے | Mere Aaqa Madine Mein Mujhe Bhi Ab Bula Leeje Lyrics in Urdu
اِک بار ہی دِکھا دو، آقا ! مجھے مدینہ
بیشک بنا لو، آقا ! مِہمان دو گھڑی کا
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
ترستی ہیں میری آنکھیں، مجھے روضہ دِکھا دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
مہکتی ہیں وہ راہیں جِن سے، آقا ! آپ ہیں گُزرے
مجھے بھی اُن گلی کوچوں میں رہنے کی جگہ دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
لڑی سانسوں کی یہ، آقا ! نہ جانے کب بِکھر جائے
بُلا لیجے مدینے اور قدموں میں بسا لیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
دُکھوں نے گھیر رکّھا ہے، غموں کی دُھوپ ہے سر پر
ٹِھکانہ گُنبد خضرا کے سائے میں عطا کیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
مواجہ سامنے ہو جِس گھڑی، یہ دم نِکل جائے
بقیعِ پاک ہی، آقا ! میرا مدفن بنا دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
عقیدت سے بِنا نعلین جِس در سیّدہ آئیں
مجھے بھی سَیّدُ الشُّہدا کی وہ چوکھٹ دِکھا دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
کبھی میں جالیاں تھامُوں بسا کر پنجتن دِل میں
علی و فاطمہ، حسنین کا صدقہ عطا کیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
سِتاروں کہکشاؤں سے مدینے کی غُبار اچّھی
مُیَسّر ہو اگر، کاتِب ! تو آنکھوں سے لگا لیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
شاعر:
یوسف حسین کاتب
نعت خواں:
حافظ احمد رضا قادری
بیشک بنا لو، آقا ! مِہمان دو گھڑی کا
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
ترستی ہیں میری آنکھیں، مجھے روضہ دِکھا دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
مہکتی ہیں وہ راہیں جِن سے، آقا ! آپ ہیں گُزرے
مجھے بھی اُن گلی کوچوں میں رہنے کی جگہ دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
لڑی سانسوں کی یہ، آقا ! نہ جانے کب بِکھر جائے
بُلا لیجے مدینے اور قدموں میں بسا لیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
دُکھوں نے گھیر رکّھا ہے، غموں کی دُھوپ ہے سر پر
ٹِھکانہ گُنبد خضرا کے سائے میں عطا کیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
مواجہ سامنے ہو جِس گھڑی، یہ دم نِکل جائے
بقیعِ پاک ہی، آقا ! میرا مدفن بنا دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
عقیدت سے بِنا نعلین جِس در سیّدہ آئیں
مجھے بھی سَیّدُ الشُّہدا کی وہ چوکھٹ دِکھا دیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
کبھی میں جالیاں تھامُوں بسا کر پنجتن دِل میں
علی و فاطمہ، حسنین کا صدقہ عطا کیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
سِتاروں کہکشاؤں سے مدینے کی غُبار اچّھی
مُیَسّر ہو اگر، کاتِب ! تو آنکھوں سے لگا لیجے
میرے آقا ! مدینے میں مجھے بھی اب بُلا لیجے
شاعر:
یوسف حسین کاتب
نعت خواں:
حافظ احمد رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں