جو ہے خدا کا اک ولی | وہ میرا پیر ازہری | Wo Mera Peer Azhari Lyrics in Urdu
جو ہے خدا کا اِک ولی، ہے سچّا عاشقِ نبی
عطا ہے غوثِ پاک کی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
دُعائے مصطفیٰ رضا، رضائے مصطفیٰ رضا
صدائے مصطفیٰ رضا، عطائے مصطفیٰ رضا
ہے اُس پہ ہر جگہ صدا نگاہِ مصطفیٰ رضا
ہے ایسی شان کا دَھنی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
بُزُرگوں کی دُعائیں لے کے ہند سے وہ جب چلا
پہنچ کے مصر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھا گیا
یہ اُس کا عِلمی مرتبہ، تھا دنگ سارا جامعہ
بنا جو فخرِ ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
مچا کے علم و فن کی دُھوم مصر سے وہ آ گئے
یہ اُن کی شان تھی کہ لینے مصطفیٰ رضا گئے
تھا اِتنا آپ پر یقیں، بنایا اپنا جانشیں
اُنہیں کو کہتے ہیں سبھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
غرورِ دُشمنِ نبی کو توڑتا چلا گیا
سبھی کو مسلکِ رضا سے جوڑتا چلا گیا
ہر ایک صُلْحِ کُلّی کا جو پردہ فاش کر گیا
تھا کون بول دو سبھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
بُلَنْد رب نے کر دِیا تھا ایسا اُن کا مرتبہ
اُس ایک ذات سے تھا دشمنوں پہ اِتنا دبدبہ
کہ بستی بستی قریہ کا جہاں بھی نعرہ لگ گیا
عوام سب پُکار اُٹھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
ہر اِک مُرید کو، نعیم ! غوث سے مِلا دِیا
جہاں جہاں قدم گئے، علاقہ جگمگا دِیا
وہ سُنّیوں کی شان ہے، وہ رضوِیوں کی جان ہے
دِلوں کا ہے سُکُون بھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
شاعر:
نعیم رضا تحسینی
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
عطا ہے غوثِ پاک کی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
دُعائے مصطفیٰ رضا، رضائے مصطفیٰ رضا
صدائے مصطفیٰ رضا، عطائے مصطفیٰ رضا
ہے اُس پہ ہر جگہ صدا نگاہِ مصطفیٰ رضا
ہے ایسی شان کا دَھنی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
بُزُرگوں کی دُعائیں لے کے ہند سے وہ جب چلا
پہنچ کے مصر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھا گیا
یہ اُس کا عِلمی مرتبہ، تھا دنگ سارا جامعہ
بنا جو فخرِ ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
مچا کے علم و فن کی دُھوم مصر سے وہ آ گئے
یہ اُن کی شان تھی کہ لینے مصطفیٰ رضا گئے
تھا اِتنا آپ پر یقیں، بنایا اپنا جانشیں
اُنہیں کو کہتے ہیں سبھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
غرورِ دُشمنِ نبی کو توڑتا چلا گیا
سبھی کو مسلکِ رضا سے جوڑتا چلا گیا
ہر ایک صُلْحِ کُلّی کا جو پردہ فاش کر گیا
تھا کون بول دو سبھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
بُلَنْد رب نے کر دِیا تھا ایسا اُن کا مرتبہ
اُس ایک ذات سے تھا دشمنوں پہ اِتنا دبدبہ
کہ بستی بستی قریہ کا جہاں بھی نعرہ لگ گیا
عوام سب پُکار اُٹھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
ہر اِک مُرید کو، نعیم ! غوث سے مِلا دِیا
جہاں جہاں قدم گئے، علاقہ جگمگا دِیا
وہ سُنّیوں کی شان ہے، وہ رضوِیوں کی جان ہے
دِلوں کا ہے سُکُون بھی، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری
شاعر:
نعیم رضا تحسینی
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں