آپ کا میں امتی ہوں یہ میری قسمت حضور | Aap Ka Main Ummati Hun Ye Meri Qismat Huzoor Lyrics in Urdu
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور
!
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
میرا دِل، دھڑکن، جِگر، سانسوں کی منزل آپ ہیں
درد کی موجوں میں اِک راحت کا ساحِل آپ ہیں
جاں لُٹائی جائے جس پر اُس کے قابِل آپ ہیں
عِشق کا مقصُود ہیں، مقصد ہیں حاصِل آپ ہیں
میری سانسوں کی روانی آپ کی خاطِر، حضور !
ہے فِدا کُل زِندگانی آپ کی خاطِر حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
آپ کا ہر قول آقا ! مُعتبر میرے لیے
آپ کے قدموں کا ذرّہ ہے قمر میرے لیے
آپ کا دیدار معراجِ نظر میرے لیے
آپ کے نعلینِ اقدس تاجِ سر میرے لیے
آپ سے منسُوب ہر شے سے عقیدت ہے، حضور !
سب سے بڑھ کر آپ سے مجھ کو محبّت ہے، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
ہے تمنّا خواب میں اُلفت دِکھاؤں آپ کو
کہہ کے، یا روحی و نفسی میں بُلاؤں آپ کو
آپ کے حسّان سا گرچہ ثنا خواں میں نہیں
ہے تمنّا آپ کی نعتیں سُناؤں آپ کو
عِشق میں بن جاؤں ایسا میں بھی دیوانہ، حضور !
آپ دیں مجھ کو تسلّی مثلِ حنّانہ، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
آپ کی نظروں نے مُحتاجوں کو سُلطاں کر دِیا
آپ کی پرواز نے عقلوں کو حیراں کر دِیا
آپ کی نسبت نے کمتر کو بھی ذیشاں کر دِیا
آپ کے پیغام نے حیواں کو اِنساں کر دِیا
احسن و اجمل و افضل یا کہ ہم رُتبہ، حضور !
خلق میں کوئی نہیں ہے آپ کے جیسا، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
آپ ہیں ایسے حسیں کہ یُوسُفِ کِنعاں فِدا
آپ پر پھر کیوں نہ ہو مجھ جیسا اِک ناداں فِدا
آپ پر کُل مال و زر، باپ اور میری ماں فِدا
آپ پر جس جس نے جاں دی اُس پہ میری جاں فِدا
قلبِ جعفر کے محل میں آپ بستے ہیں، حضور !
بن کے بارِش عِشق کی ہر دم برستے ہیں، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
شاعر:
مولانا ابوجعفر
نعت خواں:
سید ولی الله
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
میرا دِل، دھڑکن، جِگر، سانسوں کی منزل آپ ہیں
درد کی موجوں میں اِک راحت کا ساحِل آپ ہیں
جاں لُٹائی جائے جس پر اُس کے قابِل آپ ہیں
عِشق کا مقصُود ہیں، مقصد ہیں حاصِل آپ ہیں
میری سانسوں کی روانی آپ کی خاطِر، حضور !
ہے فِدا کُل زِندگانی آپ کی خاطِر حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
آپ کا ہر قول آقا ! مُعتبر میرے لیے
آپ کے قدموں کا ذرّہ ہے قمر میرے لیے
آپ کا دیدار معراجِ نظر میرے لیے
آپ کے نعلینِ اقدس تاجِ سر میرے لیے
آپ سے منسُوب ہر شے سے عقیدت ہے، حضور !
سب سے بڑھ کر آپ سے مجھ کو محبّت ہے، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
ہے تمنّا خواب میں اُلفت دِکھاؤں آپ کو
کہہ کے، یا روحی و نفسی میں بُلاؤں آپ کو
آپ کے حسّان سا گرچہ ثنا خواں میں نہیں
ہے تمنّا آپ کی نعتیں سُناؤں آپ کو
عِشق میں بن جاؤں ایسا میں بھی دیوانہ، حضور !
آپ دیں مجھ کو تسلّی مثلِ حنّانہ، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
آپ کی نظروں نے مُحتاجوں کو سُلطاں کر دِیا
آپ کی پرواز نے عقلوں کو حیراں کر دِیا
آپ کی نسبت نے کمتر کو بھی ذیشاں کر دِیا
آپ کے پیغام نے حیواں کو اِنساں کر دِیا
احسن و اجمل و افضل یا کہ ہم رُتبہ، حضور !
خلق میں کوئی نہیں ہے آپ کے جیسا، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
آپ ہیں ایسے حسیں کہ یُوسُفِ کِنعاں فِدا
آپ پر پھر کیوں نہ ہو مجھ جیسا اِک ناداں فِدا
آپ پر کُل مال و زر، باپ اور میری ماں فِدا
آپ پر جس جس نے جاں دی اُس پہ میری جاں فِدا
قلبِ جعفر کے محل میں آپ بستے ہیں، حضور !
بن کے بارِش عِشق کی ہر دم برستے ہیں، حضور !
آپ کا میں اُمّتی ہُوں یہ میری قسمت، حضور !
میرے جیون کا ہے مقصد آپ سے اُلفت، حضور !
شاعر:
مولانا ابوجعفر
نعت خواں:
سید ولی الله
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں