آقا نے بلایا روضے پر کچھ یاد رہا کچھ بھول گیا | Aaqa Ne Bulaya Roze Par Kuchh Yaad Raha Kuchh Bhool Gaya Lyrics in Urdu
آقا نے بُلایا روضے پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
کی عرضِ تمنّا رو رو کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
بخشش کی طلب کے جتنے بھی مضمون تھے سارے ازبر تھے
گُنبد پہ پڑی جب میری نظر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
باتیں تو بہت سی کرنی تھیں، ہر غم کا مداوا کرنا تھا
تھیں میری نِگاہیں جالی پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
میں بارگہِ حمزہ میں گیا، کہ اُن سے سِفارِش کرواؤں
تھیں اُن کی نگاہیں جب مجھ پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
کچھ عرض شہا سے کرنا تھی، کچھ نَذْر وہاں پہ کرنا تھی
دربارِ نبی کا تھا وہ اثر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
جنّت کی کِیاری بھی دیکھی، منبر کا نظارہ خوب کیا
جالی پہ حضوری کا منظر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
اشکوں کی لڑی تھی چہرے پر، الفاظ کی مالا تھی لب پر
موتی جو لُٹائے جی بھر کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
آقا سے شفاعت جب مانگی، شیخین سے بھی کچھ عرض کیا
تھے دونوں وہاں صدّیق و عُمر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
قدمین سے پہنچا جالی پر، رحمت کے دریچے کُھلتے گئے
تھا میرا مُقَدّر زوروں پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
پھر اِتنا دِیا آقا نے مجھے، اوقات سے میری بڑھ بڑھ کر
گِنتا ہی رہا میں چُن چُن کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
حافِظ ہے نبی کا دیوانہ، سر کو جو لگایا چوکھٹ سے
پھر خوب ہی مانگا رو رو کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
نعت خواں:
اسد رضا عطاری
کی عرضِ تمنّا رو رو کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
بخشش کی طلب کے جتنے بھی مضمون تھے سارے ازبر تھے
گُنبد پہ پڑی جب میری نظر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
باتیں تو بہت سی کرنی تھیں، ہر غم کا مداوا کرنا تھا
تھیں میری نِگاہیں جالی پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
میں بارگہِ حمزہ میں گیا، کہ اُن سے سِفارِش کرواؤں
تھیں اُن کی نگاہیں جب مجھ پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
کچھ عرض شہا سے کرنا تھی، کچھ نَذْر وہاں پہ کرنا تھی
دربارِ نبی کا تھا وہ اثر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
جنّت کی کِیاری بھی دیکھی، منبر کا نظارہ خوب کیا
جالی پہ حضوری کا منظر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
اشکوں کی لڑی تھی چہرے پر، الفاظ کی مالا تھی لب پر
موتی جو لُٹائے جی بھر کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
آقا سے شفاعت جب مانگی، شیخین سے بھی کچھ عرض کیا
تھے دونوں وہاں صدّیق و عُمر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
قدمین سے پہنچا جالی پر، رحمت کے دریچے کُھلتے گئے
تھا میرا مُقَدّر زوروں پر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
پھر اِتنا دِیا آقا نے مجھے، اوقات سے میری بڑھ بڑھ کر
گِنتا ہی رہا میں چُن چُن کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
حافِظ ہے نبی کا دیوانہ، سر کو جو لگایا چوکھٹ سے
پھر خوب ہی مانگا رو رو کر، کچھ یاد رہا کچھ بُھول گیا
نعت خواں:
اسد رضا عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں