اگر طیبہ کی زینت گنبد خضرا نہیں ہوتا | Agar Taiba Ki Zeenat Gumbad-e-Khazra Nahin Hota Lyrics in Urdu
اگر طیبہ کی زینت گُنبدِ خضرا نہیں ہوتا
تو اُس شہرِ حسین کا نام بھی طیبہ نہیں ہوتا
اگر وردِ درودِ پاک مکّھیاں نہیں کرتیں
زمین پر مکّھیوں کا شہد بھی میٹھا نہیں ہوتا
ہے جس کے ہاتھ میں دامن جنابِ غوثِ اعظم کا
نکیروں کے سوالوں کا اُسے خطرہ نہیں ہوتا
کبھی کا دشمنوں نے کر دِیا ہوتا ہمیں بے گھر
اگر بھارت کی دھرتی پر میرا خواجہ نہیں ہوتا
صدا آتی ہے یہ اب بھی مزارِ اعلیٰ حضرت سے
بریلی میں کبھی ایمان کا سَودا نہیں ہوتا
جو سایہ اُن کا ڈھونڈے اُس سے یہ، شُعیب ! کہہ دینا
ارے اندھے ! خدا کے نُور کا سایہ نہیں ہوتا
شاعر:
شعیب رضا قادری جھانسی
نعت خواں:
شعیب رضا قادری جھانسی
تو اُس شہرِ حسین کا نام بھی طیبہ نہیں ہوتا
اگر وردِ درودِ پاک مکّھیاں نہیں کرتیں
زمین پر مکّھیوں کا شہد بھی میٹھا نہیں ہوتا
ہے جس کے ہاتھ میں دامن جنابِ غوثِ اعظم کا
نکیروں کے سوالوں کا اُسے خطرہ نہیں ہوتا
کبھی کا دشمنوں نے کر دِیا ہوتا ہمیں بے گھر
اگر بھارت کی دھرتی پر میرا خواجہ نہیں ہوتا
صدا آتی ہے یہ اب بھی مزارِ اعلیٰ حضرت سے
بریلی میں کبھی ایمان کا سَودا نہیں ہوتا
جو سایہ اُن کا ڈھونڈے اُس سے یہ، شُعیب ! کہہ دینا
ارے اندھے ! خدا کے نُور کا سایہ نہیں ہوتا
شاعر:
شعیب رضا قادری جھانسی
نعت خواں:
شعیب رضا قادری جھانسی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں