دربار رسالت کی کیسی وہ گھڑی ہوگی | Darbar-e-Risalat Ki Kaisi Wo Ghadi Hogi Lyrics in Urdu
دربارِ رسالت کی کیسی وہ گھڑی ہوگی
حسّان کے ہونٹوں پہ جب نعتِ نبی ہوگی
بو بکر و عُمر ہونگے عُثمان و علی ہونگے
حسنین کے نانا کی کیا بَزْم سجی ہوگی
آقا ہیں قمر لیکن اصحاب سِتارے ہیں
اُس چاند کی ہر جانب تاروں کی لڑی ہوگی
جائیں گے مدینے ہم، لے جائے گا جب اللہ
دل سجدہ کُنا ہوگا، آنکھوں میں جھڑی ہوگی
جب وادئ طائف میں رنگین ہوئے جوتے
عرشوں پہ فرشتوں کے دل پر بھی بنی ہوگی
جب اُحد و بدر والے آقا پہ ہوئے قُرباں
خوش خبری پھر اُن کو جنّت کی مِلی ہوگی
نشید خواں:
محمد انس رحیمی
صادیہ مدثر
حسّان کے ہونٹوں پہ جب نعتِ نبی ہوگی
بو بکر و عُمر ہونگے عُثمان و علی ہونگے
حسنین کے نانا کی کیا بَزْم سجی ہوگی
آقا ہیں قمر لیکن اصحاب سِتارے ہیں
اُس چاند کی ہر جانب تاروں کی لڑی ہوگی
جائیں گے مدینے ہم، لے جائے گا جب اللہ
دل سجدہ کُنا ہوگا، آنکھوں میں جھڑی ہوگی
جب وادئ طائف میں رنگین ہوئے جوتے
عرشوں پہ فرشتوں کے دل پر بھی بنی ہوگی
جب اُحد و بدر والے آقا پہ ہوئے قُرباں
خوش خبری پھر اُن کو جنّت کی مِلی ہوگی
نشید خواں:
محمد انس رحیمی
صادیہ مدثر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں