کعبہ ہے تیرا بڑا محترم | Kaba Hai Tera Bada Mohtaram Lyrics in Urdu
میرے خُدا اے رہنما ! تیرے لئے ہی ہے حمد و ثنا
اے بادشاہ ! کعبہ تیرا، ہے تیرے بندوں کی جائے پناہ
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
ہے تیرے بندوں پہ تیری عطا
جو آج کرتے یہاں سر ہیں خم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
کعبہ تیرا جس جا آباد ہے
اسلام کی جائے بُنیاد ہے
سارے جہاں کا ہے مرکز یہی
دنیا یہاں سے ہی آباد ہے
تیرے خلیل کی یہ یاد ہے
اب بُت پرستوں سے آزاد ہے
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
احرام میں سب ہیں اِک رنگ میں
آتے نظر سب ہیں اِک ڈھنگ میں
کوئی کھڑا ہے کوئی دوڑتا
سب ہیں یہاں اپنے آہنگ میں
ادنیٰ ہے کوئی نہ اعلیٰ کوئی
در پر تیرے ہیں برابر سبھی
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
گورے بھی آئے ہیں کالے بھی ہیں
دُکھ درد اپنے سُنانے کو ہیں
عربی ہو یا پھر ہو عجمی کوئی
تیرا ہی کلمہ سُنانے کو ہیں
وحدت کا مرکز ہے کعبہ تیرا
دنیا کے غمگینوں کا آسرا
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
جنّت کا پتّھر نصب ہے یہاں
زمزم کے چشمے یہاں ہیں رواں
یہاں ہاجرہ بی کی یادیں بھی ہیں
یہاں چاروں جانب ہیں رعنائیاں
شوقِ فریدی ہے بندہ تیرا
تو بخش دے اِس کے جُرم و خطا
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
حَسْبِي رَبِّي جَلَّ اللّٰه، مَا فِي قَلْبِي غَيْرُ اللّٰه
نُور محمّد صَلَّى اللّٰه، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
شاعر:
شوق فریدی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
ساحل رضا قادری
اے بادشاہ ! کعبہ تیرا، ہے تیرے بندوں کی جائے پناہ
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
ہے تیرے بندوں پہ تیری عطا
جو آج کرتے یہاں سر ہیں خم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
کعبہ تیرا جس جا آباد ہے
اسلام کی جائے بُنیاد ہے
سارے جہاں کا ہے مرکز یہی
دنیا یہاں سے ہی آباد ہے
تیرے خلیل کی یہ یاد ہے
اب بُت پرستوں سے آزاد ہے
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
احرام میں سب ہیں اِک رنگ میں
آتے نظر سب ہیں اِک ڈھنگ میں
کوئی کھڑا ہے کوئی دوڑتا
سب ہیں یہاں اپنے آہنگ میں
ادنیٰ ہے کوئی نہ اعلیٰ کوئی
در پر تیرے ہیں برابر سبھی
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
گورے بھی آئے ہیں کالے بھی ہیں
دُکھ درد اپنے سُنانے کو ہیں
عربی ہو یا پھر ہو عجمی کوئی
تیرا ہی کلمہ سُنانے کو ہیں
وحدت کا مرکز ہے کعبہ تیرا
دنیا کے غمگینوں کا آسرا
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
جنّت کا پتّھر نصب ہے یہاں
زمزم کے چشمے یہاں ہیں رواں
یہاں ہاجرہ بی کی یادیں بھی ہیں
یہاں چاروں جانب ہیں رعنائیاں
شوقِ فریدی ہے بندہ تیرا
تو بخش دے اِس کے جُرم و خطا
کعبہ ہے تیرا بڑا محترم
دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم
لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
حَسْبِي رَبِّي جَلَّ اللّٰه، مَا فِي قَلْبِي غَيْرُ اللّٰه
نُور محمّد صَلَّى اللّٰه، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
شاعر:
شوق فریدی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
ساحل رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں