کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک | Kabe Pe Padi Pehli Nazar Tum Ko Mubarak Lyrics in Urdu
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
مُزْدلِفہ ہے، عرفات ہے، مَروہ ہے، صَفا ہے
یہ پاک یہ پاکیزہ نگر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
اب اور طلب کیا ہے تیری زائرِ کعبہ
ہے فرشِ حرم پر تیرا سر، تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
ہیں خاکِ مدینہ کے تیرے ہاتھ میں ذرّے
یہ لال، یہ ہیرے، یہ گُہر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
تم مسجدِ نبوی کے احاطے میں کھڑے ہو
یہ نوریوں کی راہ گُزر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
فارُوقی ! سبھی حاجیوں سے کہتے ہیں قُدسی
سجدوں کے لِیے رب کا یہ گھر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
عمیر زبیر
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
مُزْدلِفہ ہے، عرفات ہے، مَروہ ہے، صَفا ہے
یہ پاک یہ پاکیزہ نگر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
اب اور طلب کیا ہے تیری زائرِ کعبہ
ہے فرشِ حرم پر تیرا سر، تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
ہیں خاکِ مدینہ کے تیرے ہاتھ میں ذرّے
یہ لال، یہ ہیرے، یہ گُہر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
تم مسجدِ نبوی کے احاطے میں کھڑے ہو
یہ نوریوں کی راہ گُزر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
فارُوقی ! سبھی حاجیوں سے کہتے ہیں قُدسی
سجدوں کے لِیے رب کا یہ گھر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک
اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
عمیر زبیر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں