کون ہے جو یہ التجا نہ کرے | دل کو ان سے خدا جدا نہ کرے تضمین کے ساتھ | Kaun Hai Jo Ye Iltija Na Kare Lyrics in Urdu
کون ہے جو یہ اِلتجا نہ کرے
کون اُن کے لئے مَرا نہ کرے
کون رو رو کے یہ دُعا نہ کرے
دِل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
بیکسی لوٹ لے خدا نہ کرے
عِشق کا سر پہ ڈال کر کے غِلاف
بات اہلِ خرد یہ سُن لیں صاف
کام ہے کون سا شرع کے خِلاف
اس میں رَوضہ کا سجدہ ہو کہ طواف
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
رات دن ہم گُنہ میں ڈُوبے ہیں
جُرم جتنے ہیں سارے کرتے ہیں
پھر بھی آقا کریم ایسے ہیں
یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں
کون ان جرموں پر سزا نہ کرے
عِشق نے کر دِیا مجھے مشہور
اُن کی یادوں سے ذہن ہے معمور
مجھ کو اِس بات پہ ہے فخر ضرور
دِل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور
کاش ! جوشِ ہوس ہوا نہ کرے
زخم سینے کے سارے سینے کو
جو یہاں مَر رہے تھے جینے کو
اے وصی ! جامِ عشق پینے کو
لے، رضا ! سب چلے مدینے کو
میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے
کلام:
امام احمد رضا خان
تضمین:
سید عبد الوصی قادری رضوی
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
کون اُن کے لئے مَرا نہ کرے
کون رو رو کے یہ دُعا نہ کرے
دِل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے
بیکسی لوٹ لے خدا نہ کرے
عِشق کا سر پہ ڈال کر کے غِلاف
بات اہلِ خرد یہ سُن لیں صاف
کام ہے کون سا شرع کے خِلاف
اس میں رَوضہ کا سجدہ ہو کہ طواف
ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
رات دن ہم گُنہ میں ڈُوبے ہیں
جُرم جتنے ہیں سارے کرتے ہیں
پھر بھی آقا کریم ایسے ہیں
یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں
کون ان جرموں پر سزا نہ کرے
عِشق نے کر دِیا مجھے مشہور
اُن کی یادوں سے ذہن ہے معمور
مجھ کو اِس بات پہ ہے فخر ضرور
دِل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور
کاش ! جوشِ ہوس ہوا نہ کرے
زخم سینے کے سارے سینے کو
جو یہاں مَر رہے تھے جینے کو
اے وصی ! جامِ عشق پینے کو
لے، رضا ! سب چلے مدینے کو
میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے
کلام:
امام احمد رضا خان
تضمین:
سید عبد الوصی قادری رضوی
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں