میں بھی آقا وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں | Main Bhi Aaqa Wo Tere Dar Ke Nazare Dekhun Lyrics in Urdu
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
جتنے منظر ہیں مدینے کے وہ سارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
آپ کے پہلو میں لیٹے ہیں ابُوبکر و عُمر
روضے میں آپ کے وہ یار پِیارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
صبح و شام آتے ہیں قُدسی بھی سلامی کے لیے
خُلد کے مِلتے ہیں جس در سے اِشارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
سب کے بھرتے ہیں وہاں کاسے، وہ در ہے ایسا
کیسے مِلتے ہیں وہاں سب کو سہارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
کملی والے کا میں منگتا ہُوں، جہاں والو ! سُنو
دیکھ کر غیر کی جانب کیوں خسارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
بڑی حسرت ہے، شہاب ! آقا بُلائیں در پہ
اپنی قسمت کے چمکتے میں سِتارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
شاعر:
محمد شہاب الدین سیفی
نعت خواں:
عمیر منیر قادری
جتنے منظر ہیں مدینے کے وہ سارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
آپ کے پہلو میں لیٹے ہیں ابُوبکر و عُمر
روضے میں آپ کے وہ یار پِیارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
صبح و شام آتے ہیں قُدسی بھی سلامی کے لیے
خُلد کے مِلتے ہیں جس در سے اِشارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
سب کے بھرتے ہیں وہاں کاسے، وہ در ہے ایسا
کیسے مِلتے ہیں وہاں سب کو سہارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
کملی والے کا میں منگتا ہُوں، جہاں والو ! سُنو
دیکھ کر غیر کی جانب کیوں خسارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
بڑی حسرت ہے، شہاب ! آقا بُلائیں در پہ
اپنی قسمت کے چمکتے میں سِتارے دیکھوں
میں بھی، آقا ! وہ تیرے در کے نظارے دیکھوں
شاعر:
محمد شہاب الدین سیفی
نعت خواں:
عمیر منیر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں