شہ دیں کے نعلین اٹھانے کے قابل | Shah-e-Deen Ke Nalain Uthane Ke Qabil Lyrics in Urdu
شہِ دیں کے نعلین اُٹھانے کے قابل
کہاں میرا سر اُس خزانے کے قابل
وہ خاکِ دیارِ حبیبِ خدا ہے
کہاں میری آنکھیں لگانے کے قابل
ابھی وہ بُلا لیں مجھے ایک پل میں
مگر میں کہاں ہُوں بُلانے کے قابل
خدا کی قسم وہ بُلائیں گے مجھ کو
میں ہو جاؤں گا جب بُلانے کے قابل
میرا ذِکر چھوڑو، تَصَوُّر بھی میرا
نہیں ہے مدینے میں جانے کے قابل
اگر اپنے اعمال کو یاد کر لُوں
نہیں ایک پل مُسکُرانے کے قابل
ہُوں شہرِ مدینہ کے کُتّوں کا کُتّا
میں یہ بھی نہیں ہُوں بتانے کے قابل
نکیرین بس کھول دیں میری آنکھیں
نہیں اُن کو چہرہ دِکھانے کے قابل
ہے جاوید پھر بھی مُقَدّر پہ نازاں
کِیا رب نے نعتیں سُنانے کے قابل
نعت خواں:
محمد علی فیضی
کہاں میرا سر اُس خزانے کے قابل
وہ خاکِ دیارِ حبیبِ خدا ہے
کہاں میری آنکھیں لگانے کے قابل
ابھی وہ بُلا لیں مجھے ایک پل میں
مگر میں کہاں ہُوں بُلانے کے قابل
خدا کی قسم وہ بُلائیں گے مجھ کو
میں ہو جاؤں گا جب بُلانے کے قابل
میرا ذِکر چھوڑو، تَصَوُّر بھی میرا
نہیں ہے مدینے میں جانے کے قابل
اگر اپنے اعمال کو یاد کر لُوں
نہیں ایک پل مُسکُرانے کے قابل
ہُوں شہرِ مدینہ کے کُتّوں کا کُتّا
میں یہ بھی نہیں ہُوں بتانے کے قابل
نکیرین بس کھول دیں میری آنکھیں
نہیں اُن کو چہرہ دِکھانے کے قابل
ہے جاوید پھر بھی مُقَدّر پہ نازاں
کِیا رب نے نعتیں سُنانے کے قابل
نعت خواں:
محمد علی فیضی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں