ہزاروں میں بہتر تن تھے تسلیم و رضا والے | Hazaron Mein Bahattar Tan The Tasleem-o-Raza Wale Lyrics in Urdu
ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے
یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یُوں نکلتے ہیں جہنّم سے خدا والے
کسی نے جب وطن پُوچھا تو یُوں حضرت نے فرمایا
مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے
حُسین ابن علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
یہ خود مُشکل کُشا تھے اور تھے مُشکل کُشا والے
دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے
نعت خواں:
مولانا محمد شفیع اوکاڑوی
ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے
گلا کٹوا کے ثابت کر گئے ہیں کربلا والے
قضا سے بھی نہیں ڈرتے ہیں تسلیم و رضا والے
پُکار اُٹّھیں گے دُشمن آپ کے حملوں سے گھبرا کے
یہی تو ہیں علی والے، نبی والے، خدا والے
کِسی نے جب وطن پُوچھا تو یہ حضرت نے فرمایا
مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے
دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے
یزیدی پائیں گے دوزخ، ہے دوزخ اُن کی قسمت میں
جِناں پائیں گے اہلِ بیت کی مدح و ثنا والے
حُسین ابن علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
وہ خود مُشکل کُشا تھے اور ہیں مُشکل کُشا والے
حُسین ابن علی کا مرتبہ اللہ سے پُوچھو
یہی تو ہیں قضائے دین پر حقّ و بقا والے
یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یُوں نکلتے ہیں جہنّم سے خدا والے
پریشانی میں میں جب، راز ! اُن کو یاد کرتا ہُوں
بچا لیتے ہیں آفت سے مجھے مُشکل کُشا والے
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے
یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یُوں نکلتے ہیں جہنّم سے خدا والے
کسی نے جب وطن پُوچھا تو یُوں حضرت نے فرمایا
مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے
حُسین ابن علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
یہ خود مُشکل کُشا تھے اور تھے مُشکل کُشا والے
دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے
نعت خواں:
مولانا محمد شفیع اوکاڑوی
ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے
حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے
گلا کٹوا کے ثابت کر گئے ہیں کربلا والے
قضا سے بھی نہیں ڈرتے ہیں تسلیم و رضا والے
پُکار اُٹّھیں گے دُشمن آپ کے حملوں سے گھبرا کے
یہی تو ہیں علی والے، نبی والے، خدا والے
کِسی نے جب وطن پُوچھا تو یہ حضرت نے فرمایا
مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے
دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے
زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے
یزیدی پائیں گے دوزخ، ہے دوزخ اُن کی قسمت میں
جِناں پائیں گے اہلِ بیت کی مدح و ثنا والے
حُسین ابن علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی
وہ خود مُشکل کُشا تھے اور ہیں مُشکل کُشا والے
حُسین ابن علی کا مرتبہ اللہ سے پُوچھو
یہی تو ہیں قضائے دین پر حقّ و بقا والے
یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا
کہ دیکھو یُوں نکلتے ہیں جہنّم سے خدا والے
پریشانی میں میں جب، راز ! اُن کو یاد کرتا ہُوں
بچا لیتے ہیں آفت سے مجھے مُشکل کُشا والے
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں