ہوں خاک مگر عالم انوار سے نسبت ہے | Hun Khak Magar Aalam-e-Anwaar Se Nisbat Hai Lyrics in Urdu
ہُوں خاک مگر عالمِ انوار سے نِسبَت ہے
میں کچھ بھی نہیں لیکن سرکار سے نِسبَت ہے
دنیا کی شہنشاہی رکھتا ہُوں میں ٹھوکر پر
کونین کے اُس مالک و مختار سے نِسبَت ہے
میں خاک کا پُتلا ہُوں، وہ عرش کے راہی ہیں
اِس پار کا باسی ہُوں، اُس پار سے نِسبَت ہے
ہیں روزِ ازل سے میری گُھٹّی میں وفا ئیں
نازاں ہُوں کہ عبّاس علم دار سے نِسبَت ہے
سر جُھک نہیں سکتے سرِ محشر بھی ہمارے
سر اِس لیے اُونچے ہیں، سردار سے نِسبَت ہے
ہم ماننے والے ہیں حُسین ابنِ علی کے
وقت آئے اگر دِیں پہ تو پھر دار سے نِسبَت ہے
سرکار کے دامن سے، الطاف ! ہُوں وابستہ
غم پاس بھی کیوں آئیں کہ غم خوار سے نِسبَت ہے
شاعر:
سید الطاف شاہ کاظمی
نعت خواں:
عمیر منیر قادری
طلحہ قادری
میں کچھ بھی نہیں لیکن سرکار سے نِسبَت ہے
دنیا کی شہنشاہی رکھتا ہُوں میں ٹھوکر پر
کونین کے اُس مالک و مختار سے نِسبَت ہے
میں خاک کا پُتلا ہُوں، وہ عرش کے راہی ہیں
اِس پار کا باسی ہُوں، اُس پار سے نِسبَت ہے
ہیں روزِ ازل سے میری گُھٹّی میں وفا ئیں
نازاں ہُوں کہ عبّاس علم دار سے نِسبَت ہے
سر جُھک نہیں سکتے سرِ محشر بھی ہمارے
سر اِس لیے اُونچے ہیں، سردار سے نِسبَت ہے
ہم ماننے والے ہیں حُسین ابنِ علی کے
وقت آئے اگر دِیں پہ تو پھر دار سے نِسبَت ہے
سرکار کے دامن سے، الطاف ! ہُوں وابستہ
غم پاس بھی کیوں آئیں کہ غم خوار سے نِسبَت ہے
شاعر:
سید الطاف شاہ کاظمی
نعت خواں:
عمیر منیر قادری
طلحہ قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں