کربلا کے جاں نثاروں کو سلام | Karbala Ke Jaan Nisaron Ko Salam Lyrics in Urdu
کربلا کے جاں نِثاروں کو سلام
فاطِمہ زہرا کے پیاروں کو سلام
مصطفیٰ کے ماہ پاروں کو سلام
نوجوانوں گُل عِذاروں کو سلام
کربلا تیری بہاروں کو سلام
جان نِثاری کے نظاروں کو سلام
یا حُسین ابنِ علی مُشکل کُشا !
آپ کے سب جاں نِثاروں کو سلام
اکبر و اصغر پہ جاں قربان ہو
میرے دل کے تاجداروں کو سلام
قاسم و عبّاس پر ہوں رحمتیں
کربلا کے شَہ سُواروں کو سلام
جس کسی نے کربلا میں جان دی
اُن سبھی ایمان داروں کو سلام
بُھوکی پیاسی بیبیوں پر رحمتیں
بُھوکے پیاسے گُل عِذاروں کو سلام
بھید کیا جانے شہادت کا کوئی
اُن خُدا کے رازداروں کو سلام
بے بسی میں بھی حیا باقی رہی
سب حُسینی پردہ داروں کو سلام
رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مُدام
اور خُصُوصاً چار یاروں کو سلام
بیبیوں کو، عابِدِ بیمار کو
بے کسوں کو، غم کے ماروں کو سلام
ہو گئے قُرباں محمّد اور عَون
سیّدہ زینب کے پیاروں کو سلام
کربلا میں ظُلم کے ٹُوٹے پہاڑ
جن پہ اُن سب دِل فِگاروں کو سلام
آل و اصحاب نبی کے جس قدر
چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام
یا خُدا ! اے کاش، جا کر پھر کرُوں
کربلا کے سب مزاروں کو سلام
تین دِن کے بھوکے پیاسے آپ کے
یا نبی ! آنکھوں کے تاروں کو سلام
جو حُسینی قافلے میں تھے شریک
کہتا ہے عطّار ساروں کو سلام
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
حافظ انس رضا عطاری
فاطِمہ زہرا کے پیاروں کو سلام
مصطفیٰ کے ماہ پاروں کو سلام
نوجوانوں گُل عِذاروں کو سلام
کربلا تیری بہاروں کو سلام
جان نِثاری کے نظاروں کو سلام
یا حُسین ابنِ علی مُشکل کُشا !
آپ کے سب جاں نِثاروں کو سلام
اکبر و اصغر پہ جاں قربان ہو
میرے دل کے تاجداروں کو سلام
قاسم و عبّاس پر ہوں رحمتیں
کربلا کے شَہ سُواروں کو سلام
جس کسی نے کربلا میں جان دی
اُن سبھی ایمان داروں کو سلام
بُھوکی پیاسی بیبیوں پر رحمتیں
بُھوکے پیاسے گُل عِذاروں کو سلام
بھید کیا جانے شہادت کا کوئی
اُن خُدا کے رازداروں کو سلام
بے بسی میں بھی حیا باقی رہی
سب حُسینی پردہ داروں کو سلام
رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مُدام
اور خُصُوصاً چار یاروں کو سلام
بیبیوں کو، عابِدِ بیمار کو
بے کسوں کو، غم کے ماروں کو سلام
ہو گئے قُرباں محمّد اور عَون
سیّدہ زینب کے پیاروں کو سلام
کربلا میں ظُلم کے ٹُوٹے پہاڑ
جن پہ اُن سب دِل فِگاروں کو سلام
آل و اصحاب نبی کے جس قدر
چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام
یا خُدا ! اے کاش، جا کر پھر کرُوں
کربلا کے سب مزاروں کو سلام
تین دِن کے بھوکے پیاسے آپ کے
یا نبی ! آنکھوں کے تاروں کو سلام
جو حُسینی قافلے میں تھے شریک
کہتا ہے عطّار ساروں کو سلام
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
حافظ انس رضا عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں