کربلا سے مری لو لگی ہے | Karbala Se Meri Lau Lagi Hai Lyrics in Urdu
مجھ کو، شبّیر ! اپنا بنا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
اب تو نظرِ کرم مجھ پہ ڈالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
خُوب تَر زخم کھایا ہُوا ہُوں
دہر کا میں ستایا ہُوا ہُوں
ڈال دو مجھ پہ نظرِ عنایت
دِل کا دِیپک جلایا ہُوا ہُوں
بحرِ غم سے مجھے اب نِکالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
آ گیا پھر سے ماہِ مُحرّم
یعنی ذکرِ شہادت کا موسم
اے قسیمِ ولایت ! تَوَجُّہ
کہہ رہی ہے یہی چشمِ پُرنم
میری جھولی میں خیرات ڈالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
دل کی دنیا میں پھر کھلبلی ہے
کیا کہوں کیسی بھگدڑ مچی ہے
غرق ہونے کو ہے اب سفینہ
پھر سے بادِ مُخالف چلی ہے
ڈوبنے سے مجھے تم بچا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
ہر سُو نہرِ فتن پُھوٹتے ہیں
کنزِ ایمان کو لُوٹتے ہیں
کس قدر پُرخطر دور آیا
ہر طرف بھیڑیے گُھومتے ہیں
اپنے دامن میں مجھ کو چُھپا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
کر دو میرا جِگر نُوری نُوری
دے دو مجھ کو بھی اذنِ حضُوری
واسطہ سیّدہ فاطمہ کا
میرے دل کی یہ حسرت ہو پُوری
اپنے در کا مجھے سگ بنا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
جُرم کوئی میرا دھو رہا ہے
دنیائے دِل میں کچھ ہو رہا ہے
تاجدارِ شہیداں کرم ہو
داغِ فُرقت سے دِل رو رہا ہے
اپنے در پر مجھے اب بلا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
کہتے ہیں سب گُلستان ہُوں میں
جبکہ صحرائے ویران ہُوں میں
اپنی بیتی میں اب کیا سُناؤں
نفسِ شر سے پریشان ہُوں میں
اب خُدارا اِس آفت کو ٹالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
شہرِ اُلفت ہے آباد تم سے
سُنِّیَت کا ہے دِل شاد تم سے
سُن لو، اے میرے دِل کے شہنشاہ !
ہے یہی اب کی فریاد تم سے
اپنے ایُّوب کو اب سنبھالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
شاعر:
محمد ایوب رضا امجدی
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
اب تو نظرِ کرم مجھ پہ ڈالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
خُوب تَر زخم کھایا ہُوا ہُوں
دہر کا میں ستایا ہُوا ہُوں
ڈال دو مجھ پہ نظرِ عنایت
دِل کا دِیپک جلایا ہُوا ہُوں
بحرِ غم سے مجھے اب نِکالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
آ گیا پھر سے ماہِ مُحرّم
یعنی ذکرِ شہادت کا موسم
اے قسیمِ ولایت ! تَوَجُّہ
کہہ رہی ہے یہی چشمِ پُرنم
میری جھولی میں خیرات ڈالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
دل کی دنیا میں پھر کھلبلی ہے
کیا کہوں کیسی بھگدڑ مچی ہے
غرق ہونے کو ہے اب سفینہ
پھر سے بادِ مُخالف چلی ہے
ڈوبنے سے مجھے تم بچا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
ہر سُو نہرِ فتن پُھوٹتے ہیں
کنزِ ایمان کو لُوٹتے ہیں
کس قدر پُرخطر دور آیا
ہر طرف بھیڑیے گُھومتے ہیں
اپنے دامن میں مجھ کو چُھپا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
کر دو میرا جِگر نُوری نُوری
دے دو مجھ کو بھی اذنِ حضُوری
واسطہ سیّدہ فاطمہ کا
میرے دل کی یہ حسرت ہو پُوری
اپنے در کا مجھے سگ بنا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
جُرم کوئی میرا دھو رہا ہے
دنیائے دِل میں کچھ ہو رہا ہے
تاجدارِ شہیداں کرم ہو
داغِ فُرقت سے دِل رو رہا ہے
اپنے در پر مجھے اب بلا لو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
کہتے ہیں سب گُلستان ہُوں میں
جبکہ صحرائے ویران ہُوں میں
اپنی بیتی میں اب کیا سُناؤں
نفسِ شر سے پریشان ہُوں میں
اب خُدارا اِس آفت کو ٹالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
شہرِ اُلفت ہے آباد تم سے
سُنِّیَت کا ہے دِل شاد تم سے
سُن لو، اے میرے دِل کے شہنشاہ !
ہے یہی اب کی فریاد تم سے
اپنے ایُّوب کو اب سنبھالو
کربلا سے مِری لَو لگی ہے
شاعر:
محمد ایوب رضا امجدی
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں