میرا مولا مولا حسین ہے | Mera Maula Maula Hussain Hai Lyrics in Urdu
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
جو ہوا نواسۂ مصطفیٰ
وہ علی کا بیٹا حُسین ہے
جو یزیدِیَت کو فنا کرے
چلے کربلا وہ حُسین ہے
بی بی فاطمہ کا وہ لاڈلا
میرا بادشاہ وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
کیا سُناؤں واقِعہ کربلا
ہائے ! تیر نیزہ کہاں لگا
جسے چُومتے رہے مصطفیٰ
وہ حسینی سر تھا کٹا ہُوا
سارا گھر کا گھر بھی لُٹا دِیا
وہ جو کر گیا وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
یہی بولے حضرتِ حُرّ شَہا
یا حُسین ! آپ کا شُکرِیہ
کہ یزِیدِیوں سے نِکال کر
جو حُسینِیوں میں بِٹھا دِیا
مجھے منزلوں کا پتا دِیا
میرا رہنُما وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
وہ بھی بندہ کِتنا عجیب ہے
جو کہے یزِید بھی ٹِھیک ہے
یا حُسینی بن یا یزِیدی بن
ایسے جُھوٹ میں کیُوں شریک ہے
کیُوں دو کشتِیوں کا سَوَار ہے
جو ہے حق نُما وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
جو درِ حُسین پہ آ گیا
ساری مَنّتوں کو وہ پا گیا
یہ گھرانہ آلِ نبی کا ہے
جو سخاوتوں کو سِکھا گیا
جو فقیر کو کرے بادشاہ
ایسا بادشاہ وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
یہ وظیفہ ہے میری نوکری
میں پڑھُوں گا نادِ علی علی
میں پِیُوں گا جامِ قلندری
میں لگاؤں نعرۂ حیدری
دو، اُجاگر ! عِشق میں یہ صَدا
مجھے مِل گیا وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ احسن قادری
ساحل رضا قادری
میرا مولا مولا حُسین ہے
جو ہوا نواسۂ مصطفیٰ
وہ علی کا بیٹا حُسین ہے
جو یزیدِیَت کو فنا کرے
چلے کربلا وہ حُسین ہے
بی بی فاطمہ کا وہ لاڈلا
میرا بادشاہ وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
کیا سُناؤں واقِعہ کربلا
ہائے ! تیر نیزہ کہاں لگا
جسے چُومتے رہے مصطفیٰ
وہ حسینی سر تھا کٹا ہُوا
سارا گھر کا گھر بھی لُٹا دِیا
وہ جو کر گیا وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
یہی بولے حضرتِ حُرّ شَہا
یا حُسین ! آپ کا شُکرِیہ
کہ یزِیدِیوں سے نِکال کر
جو حُسینِیوں میں بِٹھا دِیا
مجھے منزلوں کا پتا دِیا
میرا رہنُما وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
وہ بھی بندہ کِتنا عجیب ہے
جو کہے یزِید بھی ٹِھیک ہے
یا حُسینی بن یا یزِیدی بن
ایسے جُھوٹ میں کیُوں شریک ہے
کیُوں دو کشتِیوں کا سَوَار ہے
جو ہے حق نُما وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
جو درِ حُسین پہ آ گیا
ساری مَنّتوں کو وہ پا گیا
یہ گھرانہ آلِ نبی کا ہے
جو سخاوتوں کو سِکھا گیا
جو فقیر کو کرے بادشاہ
ایسا بادشاہ وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
یہ وظیفہ ہے میری نوکری
میں پڑھُوں گا نادِ علی علی
میں پِیُوں گا جامِ قلندری
میں لگاؤں نعرۂ حیدری
دو، اُجاگر ! عِشق میں یہ صَدا
مجھے مِل گیا وہ حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
میرا مولا مولا حُسین ہے
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ احسن قادری
ساحل رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں