نبی سے وعدہ نبھانا حسین جانتے ہیں | Nabi Se Wada Nibhana Hussain Jante Hain Lyrics in Urdu
سیّد نے کربلا میں وعدے نِبھا دیے ہیں
دینِ محمّدی کے گُلشن کِھلا دیے ہیں
میرا سردار حُسین ! میرا دِلدار حُسین !
ہے میرا پیار حُسین !
نبی سے وعدہ نِبھانا حُسین جانتے ہیں
یزیدیوں کو مِٹانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
شہید ہو کے بھی نیزے پہ چڑھ کے دنیا کو
کلامِ پاک سُنانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
زمینِ کَرب و بلا پر کٹا کے سَر اپنا
خُدا کا دین بچانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
درِ حُسین پہ دامن پسارنا سِیکھو
گدا کو شاہ بنانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
یزیدیوں کو جو اِک وار میں کرے فی النّار
یُوں ذُوالْفِقار چلانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
زبانِ حال سے حُرّ کے لہُو نے یہ بولا
خُدا سے خُلد دِلانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
تڑپ تھی جامِ شہادت کی ورنہ لمحے میں
فُرات قدموں میں لانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
ڈرو نہ آتشِ دوزخ سے، سیف ! تم ہرگز
حُسینیوں کو بچانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ عاطف عالم قادری
محمد ذیشان قادری
دینِ محمّدی کے گُلشن کِھلا دیے ہیں
میرا سردار حُسین ! میرا دِلدار حُسین !
ہے میرا پیار حُسین !
نبی سے وعدہ نِبھانا حُسین جانتے ہیں
یزیدیوں کو مِٹانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
شہید ہو کے بھی نیزے پہ چڑھ کے دنیا کو
کلامِ پاک سُنانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
زمینِ کَرب و بلا پر کٹا کے سَر اپنا
خُدا کا دین بچانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
درِ حُسین پہ دامن پسارنا سِیکھو
گدا کو شاہ بنانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
یزیدیوں کو جو اِک وار میں کرے فی النّار
یُوں ذُوالْفِقار چلانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
زبانِ حال سے حُرّ کے لہُو نے یہ بولا
خُدا سے خُلد دِلانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
تڑپ تھی جامِ شہادت کی ورنہ لمحے میں
فُرات قدموں میں لانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
ڈرو نہ آتشِ دوزخ سے، سیف ! تم ہرگز
حُسینیوں کو بچانا حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
حُسین جانتے ہیں، حُسین جانتے ہیں
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ عاطف عالم قادری
محمد ذیشان قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں