سید نے کربلا میں وعدے نبھا دیے ہیں | Syed Ne Karbala Mein Wade Nibha Diye Hain Lyrics in Urdu
سیّد نے کربلا میں وعدے نِبھا دیے ہیں
دینِ محمّدی کے گُلشن کِھلا دیے ہیں
بولے حُسین، مولا ! تیری رضا کی خاطر
اِک ایک کر کے میں نے ہیرے لُٹا دیے ہیں
دینِ نبی پہ واری اکبر نے بھی جوانی
عبّاس نے بھی اپنے بازُو کٹا دیے ہیں
زینب کے باغ میں بھی دو پُھول تھے مہکتے
زینب نے وہ بھی دونوں راہِ خُدا دیے ہیں
زہرا کے ناز پالے، پُھولوں پہ سونے والے
کربل کی خاک پر وہ ہیرے لُٹا دیے ہیں
سرکار ہوں گے راضی اُس سے بھی سُن لو، حافظ !
دو چار آنسُو رو کر جس نے بہا دیے ہیں
نعت خوان:
پروفیسر عبدالرؤف روفی
اسد رضا عطاری
حافظ احسن قادری
دینِ محمّدی کے گُلشن کِھلا دیے ہیں
بولے حُسین، مولا ! تیری رضا کی خاطر
اِک ایک کر کے میں نے ہیرے لُٹا دیے ہیں
دینِ نبی پہ واری اکبر نے بھی جوانی
عبّاس نے بھی اپنے بازُو کٹا دیے ہیں
زینب کے باغ میں بھی دو پُھول تھے مہکتے
زینب نے وہ بھی دونوں راہِ خُدا دیے ہیں
زہرا کے ناز پالے، پُھولوں پہ سونے والے
کربل کی خاک پر وہ ہیرے لُٹا دیے ہیں
سرکار ہوں گے راضی اُس سے بھی سُن لو، حافظ !
دو چار آنسُو رو کر جس نے بہا دیے ہیں
نعت خوان:
پروفیسر عبدالرؤف روفی
اسد رضا عطاری
حافظ احسن قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں