یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نور عین ہے | Ye Bil Yaqeen Hussain Hai Lyrics in Urdu
لِباس ہے پھٹا ہُوا، غُبار میں اٹا ہُوا
تمام جسمِ نازنیں چِھدا ہُوا، کٹا ہُوا
یہ کون ذی وقار ہے ! بلا کا شہ سوار ہے !
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہُوا
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مَست ہے
کہ جس کے سامنے کوئی بُلند ہے نہ پَست ہے
اُدھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہے
کہ ایک سے ہَزار ہا کا حوصلہ شِکست ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
دِلاوری میں فرد ہے، بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جس کے دبدبے سے رنگ دُشمنوں کا زرد ہے
حبیبِ مصطفیٰ ہے یہ، مُجاہدِ خُدا ہے یہ
جبھی تو اِس کے سامنے یہ فوج گرد برد ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
اُدھر سپاہِ شام ہے، ہزار اِنتظام ہے
اُدھر ہیں دُشمنانِ دیں، اِدھر فقط اِمام ہے
مگر عجیب شان ہے، غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خُدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ جس کی ایک ضَرب سے، کمالِ فنِ حَرب سے
کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کَرب سے
غضب ہے تیغِ دو سرا، کہ ایک ایک وار پر
اُٹھی صدائے اَلاَماں زبانِ شَرق و غَرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے، تو جسم بھی فِگار ہے
زمین بھی تپی ہوئی، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زَن، یہ صف شِکن، فلک فِگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محوِ کارزار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
شاعر:
حفیظ جالندھری
نعت خواں:
نصرت فتح علی خان
امجد بلتستانی
میلاد رضا قادری
محمد حسان رضا قادری
تمام جسمِ نازنیں چِھدا ہُوا، کٹا ہُوا
یہ کون ذی وقار ہے ! بلا کا شہ سوار ہے !
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہُوا
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مَست ہے
کہ جس کے سامنے کوئی بُلند ہے نہ پَست ہے
اُدھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہے
کہ ایک سے ہَزار ہا کا حوصلہ شِکست ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
دِلاوری میں فرد ہے، بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جس کے دبدبے سے رنگ دُشمنوں کا زرد ہے
حبیبِ مصطفیٰ ہے یہ، مُجاہدِ خُدا ہے یہ
جبھی تو اِس کے سامنے یہ فوج گرد برد ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
اُدھر سپاہِ شام ہے، ہزار اِنتظام ہے
اُدھر ہیں دُشمنانِ دیں، اِدھر فقط اِمام ہے
مگر عجیب شان ہے، غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اُٹھی ہے تیغ بس خُدا کا نام ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
یہ جس کی ایک ضَرب سے، کمالِ فنِ حَرب سے
کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کَرب سے
غضب ہے تیغِ دو سرا، کہ ایک ایک وار پر
اُٹھی صدائے اَلاَماں زبانِ شَرق و غَرب سے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
عبا بھی تار تار ہے، تو جسم بھی فِگار ہے
زمین بھی تپی ہوئی، فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مردِ تیغ زَن، یہ صف شِکن، فلک فِگن
کمالِ صبر و تن دہی سے محوِ کارزار ہے
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حُسین ہی حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
شاعر:
حفیظ جالندھری
نعت خواں:
نصرت فتح علی خان
امجد بلتستانی
میلاد رضا قادری
محمد حسان رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں