جشن نبی کریں گے بڑی دھوم دھام سے | اعلیٰ حضرت کے دیوانے | Ala Hazrat Ke Deewane Lyrics in Urdu
جشنِ نبی کریں گے بڑی دُھوم دھام سے
مطلب نہیں ہے ہم کو یزیدی نِظام سے
تکلیف جس کو ہوگی دُرُود و سلام سے
تکلیف اُس کو دیں گے رضا کے کلام سے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
سُن کر رضا کا ذِکر طلبگار ہو گئے
جو سو رہے تھے نیند سے بیدار ہو گئے
جب بات آ گئی ہے نبی کے وقار پر
یہ جان لُٹانے کو بھی تیّار ہو گئے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
مرکز مِرا بریلی ہے میری وفا کے ساتھ
بیمار چل رہے ہیں مُکَمّل شِفا کے ساتھ
گُستاخ دیکھ لیں گے یہ میدانِ حشر میں
ہیں قادری فقیر، رہیں گے رضا کے ساتھ
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
چاروں طرف سے کُفْر کے شُعْلے اُبَل پڑے
کرنے لگے حضور پہ حملے بڑے بڑے
کوئی کہے حضور کو اپنی طرح بشر
ذِکرِ نبی کو کوئی کہے غیر مُعتبر
کوئی نبی کے عِلم پہ طعنہ زنی کرے
کلمہ پڑھے اُنہیں کا، اُنہیں کو بُرا کہے
توہین کر رہی تھیں یہ باطل جماعتیں
مغموم ہو رہی تھیں دِلوں کی سماعتیں
عاشِق نبی کے رو کے یہ کہتے تھے بار بار
کب آئے گا ہمارے عقیدوں کا پہرے دار
نامُوسِ مصطفیٰ کی حِفاظت کرے گا کون ؟
نجدی وہابیوں سے مُکَمّل لڑے گا کون ؟
اللہ کا کرم ہُوا وہ ذات آ گئی
ہم سُنّیوں کے واسطے اِمداد آ گئی
بیٹا نقی کا بن کے رضا خان آ گئے
تصویرِ سُنّیت کے نِگَہبان آ گئے
بچپن سے جس نے عِشق پڑھا تھا حُضُور کا
جس پر نشہ چڑھا تھا شرابِ طہُور کا
ہر لفظ جس کا عِشقِ رسالت مآب ہے
بغداد والے پیر کا جو اِنتخاب ہے
وہ آ گیا جو عِشق کا مطلب بتائے گا
نجدی وہابیوں سے عقیدہ بچائے گا
احمد رضا کے نام سے مشہُور ہوگا جو
مارہرہ والے پیر کو منظُور ہوگا جو
ہم سب اُسی کے نام کا نعرہ لگائیں گے
بھٹکے ہوئے دِلوں کو مدینہ بنائیں گے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اختر رضا کے چاہنے والے ہیں ہم، جناب !
اختر رضا کے نام کا نعرہ لگائیں گے
مانا ہے پیر تاجِ شریعت کو جان سے
یہ جان ہے اُنہیں کی، اُنہیں پر لُٹائیں گے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
جو دل لگا چُکے ہیں، نہ موڑیں گے حشر تک
وعدہ کیا جو خود سے، نہ توڑیں گے حشر تک
اختر رضا کی جان ہیں اسجد رضا میرے
اسجد رضا کا ساتھ نہ چھوڑیں گے حشر تک
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
نعت خوان:
غلام نور مجسم
مطلب نہیں ہے ہم کو یزیدی نِظام سے
تکلیف جس کو ہوگی دُرُود و سلام سے
تکلیف اُس کو دیں گے رضا کے کلام سے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
سُن کر رضا کا ذِکر طلبگار ہو گئے
جو سو رہے تھے نیند سے بیدار ہو گئے
جب بات آ گئی ہے نبی کے وقار پر
یہ جان لُٹانے کو بھی تیّار ہو گئے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
مرکز مِرا بریلی ہے میری وفا کے ساتھ
بیمار چل رہے ہیں مُکَمّل شِفا کے ساتھ
گُستاخ دیکھ لیں گے یہ میدانِ حشر میں
ہیں قادری فقیر، رہیں گے رضا کے ساتھ
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
چاروں طرف سے کُفْر کے شُعْلے اُبَل پڑے
کرنے لگے حضور پہ حملے بڑے بڑے
کوئی کہے حضور کو اپنی طرح بشر
ذِکرِ نبی کو کوئی کہے غیر مُعتبر
کوئی نبی کے عِلم پہ طعنہ زنی کرے
کلمہ پڑھے اُنہیں کا، اُنہیں کو بُرا کہے
توہین کر رہی تھیں یہ باطل جماعتیں
مغموم ہو رہی تھیں دِلوں کی سماعتیں
عاشِق نبی کے رو کے یہ کہتے تھے بار بار
کب آئے گا ہمارے عقیدوں کا پہرے دار
نامُوسِ مصطفیٰ کی حِفاظت کرے گا کون ؟
نجدی وہابیوں سے مُکَمّل لڑے گا کون ؟
اللہ کا کرم ہُوا وہ ذات آ گئی
ہم سُنّیوں کے واسطے اِمداد آ گئی
بیٹا نقی کا بن کے رضا خان آ گئے
تصویرِ سُنّیت کے نِگَہبان آ گئے
بچپن سے جس نے عِشق پڑھا تھا حُضُور کا
جس پر نشہ چڑھا تھا شرابِ طہُور کا
ہر لفظ جس کا عِشقِ رسالت مآب ہے
بغداد والے پیر کا جو اِنتخاب ہے
وہ آ گیا جو عِشق کا مطلب بتائے گا
نجدی وہابیوں سے عقیدہ بچائے گا
احمد رضا کے نام سے مشہُور ہوگا جو
مارہرہ والے پیر کو منظُور ہوگا جو
ہم سب اُسی کے نام کا نعرہ لگائیں گے
بھٹکے ہوئے دِلوں کو مدینہ بنائیں گے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اختر رضا کے چاہنے والے ہیں ہم، جناب !
اختر رضا کے نام کا نعرہ لگائیں گے
مانا ہے پیر تاجِ شریعت کو جان سے
یہ جان ہے اُنہیں کی، اُنہیں پر لُٹائیں گے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
جو دل لگا چُکے ہیں، نہ موڑیں گے حشر تک
وعدہ کیا جو خود سے، نہ توڑیں گے حشر تک
اختر رضا کی جان ہیں اسجد رضا میرے
اسجد رضا کا ساتھ نہ چھوڑیں گے حشر تک
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
اعلیٰ حضرت کے دیوانے
نعت خوان:
غلام نور مجسم
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں