بقائے اللہ اکبر حسین کا خیمہ | Baqa-e-Allahu Akbar Hussain Ka Khaima Lyrics in Urdu
بقائے اللہ اکبر حُسین کا خیمہ
نبی کے دین کا محور حُسین کا خیمہ
نبی کا دین ٹِکا ہے اِنہی سُتُونوں پر
ہے جن سُتُونوں کے اُوپر حُسین کا خیمہ
بڑے بڑوں سے بچایا گیا نہ تختِ یزید
بچا کے لے گئے اصغر حُسین کا خیمہ
غلاظتوں کے اندھیرے یزیدی خیموں میں
عبادتوں سے مُنَوَّر حُسین کا خیمہ
جنابِ سیّدہ زہرا نے اِس کو اوڑھا ہے
یہ جو لپیٹے ہے چادر حُسین کا خیمہ
اسی میں رہتے ہیں شیرِ خدا کے شیر سبھی
سنبھل کے دیکھ، اے لشکر ! حُسین کا خیمہ
لگا رہا ہے یہ نعرہ "حُسین زندہ باد"
یزیدی محل پہ چڑھ کر حُسین کا خیمہ
جو ہاتھ بڑھتا ہے ناموسِ دین کی جانب
تو کاٹ دیتا ہے بڑھ کر حُسین کا خیمہ
کھڑا ہے فخر سے صبر و رضا کے پیکر میں
زمینِ کرب و بلا پر حُسین کا خیمہ
کھڑے ہیں طالبِ بیعت جُھکائے سر اپنا
کھڑا ہے سر کو اُٹھا کر حُسین کا خیمہ
یہ جب سے چاند مُحَرَّم کا آ گیا ہے نظر
بنا ہُوا ہے میرا گھر حُسین کا خیمہ
سوارِ دوشِ پیمبر اِسی کے اندر ہیں
بلند کیوں نہ ہو، اظہر ! حُسین کا خیمہ
شاعر:
اظہر فاروقی بریلوی
نعت خواں:
غلام غوث غزالی
نبی کے دین کا محور حُسین کا خیمہ
نبی کا دین ٹِکا ہے اِنہی سُتُونوں پر
ہے جن سُتُونوں کے اُوپر حُسین کا خیمہ
بڑے بڑوں سے بچایا گیا نہ تختِ یزید
بچا کے لے گئے اصغر حُسین کا خیمہ
غلاظتوں کے اندھیرے یزیدی خیموں میں
عبادتوں سے مُنَوَّر حُسین کا خیمہ
جنابِ سیّدہ زہرا نے اِس کو اوڑھا ہے
یہ جو لپیٹے ہے چادر حُسین کا خیمہ
اسی میں رہتے ہیں شیرِ خدا کے شیر سبھی
سنبھل کے دیکھ، اے لشکر ! حُسین کا خیمہ
لگا رہا ہے یہ نعرہ "حُسین زندہ باد"
یزیدی محل پہ چڑھ کر حُسین کا خیمہ
جو ہاتھ بڑھتا ہے ناموسِ دین کی جانب
تو کاٹ دیتا ہے بڑھ کر حُسین کا خیمہ
کھڑا ہے فخر سے صبر و رضا کے پیکر میں
زمینِ کرب و بلا پر حُسین کا خیمہ
کھڑے ہیں طالبِ بیعت جُھکائے سر اپنا
کھڑا ہے سر کو اُٹھا کر حُسین کا خیمہ
یہ جب سے چاند مُحَرَّم کا آ گیا ہے نظر
بنا ہُوا ہے میرا گھر حُسین کا خیمہ
سوارِ دوشِ پیمبر اِسی کے اندر ہیں
بلند کیوں نہ ہو، اظہر ! حُسین کا خیمہ
شاعر:
اظہر فاروقی بریلوی
نعت خواں:
غلام غوث غزالی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں