حسین کی یہ محبت ہے اور مسلسل ہے | Hussain Ki Ye Mohabbat Hai Aur Musalsal Hai Lyrics in Urdu
نہ پوچھ کیسے کوئی شاہِ مشرقین بنا
بشر کہوں اُسے، عقیدت کا زیب و زَین بنا
علی کا خون، لُعابِ رسول، شِیرِ بتول
ملے ہیں جب یہ عناصر تو پھر حسین بنا
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
یہ کبریا کی عنایت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
نصیب میں جو نہ ہو وہ حسین سے مانگو
یاں مانگنے کی اجازت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
بتا دیا ہے نبی کے طویل سجدے نے
حسین روحِ عبادت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
حسین تیری محبّّت میں موت آتی نہیں
یہی تو راہِ شہادت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
حسین فاتحِ عالم ہے طے ہوا ہے، بتول !
یزید کے لیے لعنت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
شاعرہ:
سیدا فخرا بتول نقوی
ثنا خواں:
ماسٹر علی ضامن
بشر کہوں اُسے، عقیدت کا زیب و زَین بنا
علی کا خون، لُعابِ رسول، شِیرِ بتول
ملے ہیں جب یہ عناصر تو پھر حسین بنا
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
یہ کبریا کی عنایت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
نصیب میں جو نہ ہو وہ حسین سے مانگو
یاں مانگنے کی اجازت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
بتا دیا ہے نبی کے طویل سجدے نے
حسین روحِ عبادت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
حسین تیری محبّّت میں موت آتی نہیں
یہی تو راہِ شہادت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
حسین فاتحِ عالم ہے طے ہوا ہے، بتول !
یزید کے لیے لعنت ہے اور مسلسل ہے
حسین کی یہ محبّت ہے اور مسلسل ہے
شاعرہ:
سیدا فخرا بتول نقوی
ثنا خواں:
ماسٹر علی ضامن
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں