خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے | Khoob Aankhon Ne Tere Dar Pe Ye Manzar Dekhe Lyrics in Urdu
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
مانگتے پھرتے زمانے کے سکندر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
آپ سا، رحمتِ عالم ! کوئی دیکھا ہی نہیں
یوں تو دنیا میں ہزاروں ہی پیمبر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
عاصیو ! آؤ چلیں سرورِ دیں کے در پر
جوش پر اُن کے کرم کے ہیں سمندر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
دیکھنا چاہے جو انداز شہنشاہی کے
شاہِ بطحا کے غلاموں کو وہ آ کر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
دشمنِ جاں کو نوازا ہے دعائیں دے کر
رُخِ رحمت کے نہ بدلے ہوئے تیور دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
پھر بلا مجھ کو مدینے میں، مدینے والے !
ایک عرصہ ہوا، سرکار ! تیرا در دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
اُس کو دنیا کے خزانوں کی ہو پروا کیونکر
پیار سے جس کو کوئی مردِ قلندر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
جھوم اُٹّھا ہے قیامت میں پِیاسوں کا ہجوم
جس گھڑی ساقیٔ کوثر لبِ کوثر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
کربلا میں جو تیرے دیں کے محافظ آئے
پھر فلک نے وہ زمیں پر نہ بہتّر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
اک تیری ذات ہی کافی ہے نیازی کے لئے
در تیرا چھوڑ کے کیوں غیر کا وہ در دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
شاعر:
عبدالستار نیازی
نعت خواں:
محمد اعظم قادری
مانگتے پھرتے زمانے کے سکندر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
آپ سا، رحمتِ عالم ! کوئی دیکھا ہی نہیں
یوں تو دنیا میں ہزاروں ہی پیمبر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
عاصیو ! آؤ چلیں سرورِ دیں کے در پر
جوش پر اُن کے کرم کے ہیں سمندر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
دیکھنا چاہے جو انداز شہنشاہی کے
شاہِ بطحا کے غلاموں کو وہ آ کر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
دشمنِ جاں کو نوازا ہے دعائیں دے کر
رُخِ رحمت کے نہ بدلے ہوئے تیور دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
پھر بلا مجھ کو مدینے میں، مدینے والے !
ایک عرصہ ہوا، سرکار ! تیرا در دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
اُس کو دنیا کے خزانوں کی ہو پروا کیونکر
پیار سے جس کو کوئی مردِ قلندر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
جھوم اُٹّھا ہے قیامت میں پِیاسوں کا ہجوم
جس گھڑی ساقیٔ کوثر لبِ کوثر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
کربلا میں جو تیرے دیں کے محافظ آئے
پھر فلک نے وہ زمیں پر نہ بہتّر دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
اک تیری ذات ہی کافی ہے نیازی کے لئے
در تیرا چھوڑ کے کیوں غیر کا وہ در دیکھے
خوب آنکھوں نے تیرے در پہ یہ منظر دیکھے
شاعر:
عبدالستار نیازی
نعت خواں:
محمد اعظم قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں