اشکوں کی گزارش ہے یہ سرکار مدینہ | Ashkon Ki Guzarish Hai Ye Sarkar-e-Madina Lyrics in Urdu
یا رسول اللہ ! یا رسول اللہ ! یا رسول اللہ !
گر تم نہ سُنو گے تو میری کون سُنے گا
گر تم نہ کرو گے تو کرم کون کرے گا
ٹالے سے بِھکاری نہ ٹلا ہے نہ ٹلے گا
جھولی کو میری تیرے سِوا کون بھرے گا
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
ہو جائے میسّر کبھی دیدارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
بے دام یہاں بِکتے ہیں یُوسُف کے خریدار
بازارِ مدینہ ہے یہ بازارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
بُلوائیں گے مجھ کو بھی شہنشاہِ دو عالم
دیکھوں گا کبھی آنکھوں سے انوارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
ہر غُنچہ و گُل پر ہے فِدا طلعتِ فردوس
دیکھو تو ذرا نکہتِ گُلزارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
معراجِ بصارت اسے کہیے کہ نہ کہیے
آتے ہیں نظر دُور سے مینارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
عقبٰی میں ہر اِک غم سے میں آزاد رہوں گا
دُنیا میں جو، فاضِل ! ہُوں گِرِفتارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
بڑی اُمّید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
کرم کی جب نظر ہوگی مدینے ہم بھی جائیں گے
اگر جانا مدینے میں ہُوا ہم غم کے ماروں کا
مکینِ گُنبدِ خضرا کو حالِ دل سُنائیں گے
شاعر:
سید فاضل میسوری
نعت خواں:
زہیب اشرفی
گر تم نہ سُنو گے تو میری کون سُنے گا
گر تم نہ کرو گے تو کرم کون کرے گا
ٹالے سے بِھکاری نہ ٹلا ہے نہ ٹلے گا
جھولی کو میری تیرے سِوا کون بھرے گا
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
ہو جائے میسّر کبھی دیدارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
بے دام یہاں بِکتے ہیں یُوسُف کے خریدار
بازارِ مدینہ ہے یہ بازارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
بُلوائیں گے مجھ کو بھی شہنشاہِ دو عالم
دیکھوں گا کبھی آنکھوں سے انوارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
ہر غُنچہ و گُل پر ہے فِدا طلعتِ فردوس
دیکھو تو ذرا نکہتِ گُلزارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
معراجِ بصارت اسے کہیے کہ نہ کہیے
آتے ہیں نظر دُور سے مینارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
عقبٰی میں ہر اِک غم سے میں آزاد رہوں گا
دُنیا میں جو، فاضِل ! ہُوں گِرِفتارِ مدینہ
اشکوں کی گُزارِش ہے یہ، سرکارِ مدینہ !
بڑی اُمّید ہے سرکار قدموں میں بلائیں گے
کرم کی جب نظر ہوگی مدینے ہم بھی جائیں گے
اگر جانا مدینے میں ہُوا ہم غم کے ماروں کا
مکینِ گُنبدِ خضرا کو حالِ دل سُنائیں گے
شاعر:
سید فاضل میسوری
نعت خواں:
زہیب اشرفی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں