ہم اصحاب کے خادم ان کے نوکر ہیں | ہم صدیق و عمر والے | Hum Ashab Ke Khadim Unke Naukar Hain Lyrics in Urdu
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
میرے نبی کے سارے اصحاب ہیں زندہ باد
ابُو بکر صِدّیق، عُمر خطّاب ہیں زندہ باد
عُثماں غنی بھی پیارے ہیں
مولا علی بھی ہمارے ہیں
مومِن کے دِل میں ہر دم یہ دھڑکتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
ذکرِ علی تو، یارو! چہرے دِکھلائے
ذکرِ مُعاویہ، لوگو! نسلیں بتلائے
علی مُعاویہ ہیں بھائی
راہِ عظِیمت کے راہی
جب یہ کہتے ہیں مُنکر جلتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
پیاری امّی عائشہ! تُجھ پر جاں قُرباں
امّی! تیری عِفّت پر میری ماں قُرباں
ہم تیرے ہی بیٹے ہیں
سُن لے دُنیا، کہتے ہیں
امّی کی خاطر ہم شوق سے مرتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
زہرا کے لختِ جگر کربل میں ڈٹ جائیں
باطِل سے ڈرتے نہیں، پھر چاہے کٹ جائیں
پیارے نبی کے نواسے ہیں
کربل میں وہ پیاسے ہیں
نیزے پہ چڑھ کر بھی قرآن وہ پڑھتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
مُنکر ہیں مُرتد ہیں، اصحاب سے جلتے ہیں
پیٹتے ہیں وہ سینہ، خنجر بھی چلتے ہے
جل جل کے مر جائیں گے
پھر وہ جہنم جائیں گے
حق یہ عقیدہ ہے، کُھل کر کہتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
نشید خواں:
حافظ وسیم معاویہ
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
میرے نبی کے سارے اصحاب ہیں زندہ باد
ابُو بکر صِدّیق، عُمر خطّاب ہیں زندہ باد
عُثماں غنی بھی پیارے ہیں
مولا علی بھی ہمارے ہیں
مومِن کے دِل میں ہر دم یہ دھڑکتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
ذکرِ علی تو، یارو! چہرے دِکھلائے
ذکرِ مُعاویہ، لوگو! نسلیں بتلائے
علی مُعاویہ ہیں بھائی
راہِ عظِیمت کے راہی
جب یہ کہتے ہیں مُنکر جلتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
پیاری امّی عائشہ! تُجھ پر جاں قُرباں
امّی! تیری عِفّت پر میری ماں قُرباں
ہم تیرے ہی بیٹے ہیں
سُن لے دُنیا، کہتے ہیں
امّی کی خاطر ہم شوق سے مرتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
زہرا کے لختِ جگر کربل میں ڈٹ جائیں
باطِل سے ڈرتے نہیں، پھر چاہے کٹ جائیں
پیارے نبی کے نواسے ہیں
کربل میں وہ پیاسے ہیں
نیزے پہ چڑھ کر بھی قرآن وہ پڑھتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
مُنکر ہیں مُرتد ہیں، اصحاب سے جلتے ہیں
پیٹتے ہیں وہ سینہ، خنجر بھی چلتے ہے
جل جل کے مر جائیں گے
پھر وہ جہنم جائیں گے
حق یہ عقیدہ ہے، کُھل کر کہتے ہیں
ہم اصحاب کے خادِم اُن کے نوکر ہیں
اہلِ بیتِ نبی کے دَر کے نوکر ہیں
ہم صِدّیق و عمر والے
ہم عُثماں، حیدر والے
کبھی نہ جُھکتے ہیں، کبھی نہ بِکتے ہیں
نشید خواں:
حافظ وسیم معاویہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں