قریب دیار حبیب خدا میں میرا گھر بنانے کو جی چاہتا ہے | Qareeb-e-Dayar-e-Habib-e-Khuda Mein Mera Ghar Banane Ko Ji Chahta Hai Lyrics in Urdu
قریبِ دیارِ حبیبِ خُدا میں
میرا گھر بنانے کو جی چاہتا ہے
بچی زندگی اپنی ساری کی ساری
وہیں پر بِتانے کو جی چاہتا ہے
چلے تھے عُمر قتل کرنے نبی کو
رُخِ مصطفیٰ پر نظر جب پڑی تو
کہا، مجھ کو کلمہ پڑھا دیجے، آقا !
کہ اب قُرب پانے کو جی چاہتا ہے
بسا جب سے نظروں میں ہے آپ کا در
نہیں بھاتا آنکھوں کو اب کوئی منظر
عطا کیجیے پھر سے اِذنِ مدینہ
کہ پھر در پہ آنے کو جی چاہتا ہے
گورنر ہیں طیبہ مبارک شہر کے
وہ پیارے چچا ہیں خیر البشر کے
مِلے جن کے صدقے سے اِذنِ مدینہ
اُسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کی گلیوں کے دلکش نظارے
جہاں کھیلتے تھے وہ سبطین پیارے
خدایا ! اُنہی پاک راہوں میں اپنی
یہ آنکھیں بِچھانے کو جی چاہتا ہے
وہ جبلِ اُحد جو ہے پیارا نبی کا
ہے غارِ حرا میں اُجالا نبی کا
تجلّی سے اُس کی دِیوں کو جلا کر
وہیں بیٹھ جانے کو جی چاہتا ہے
وہ صدّیق و فاروق و عثمان و حیدر
جو ہیں سارے اصحابِ آقا کے سرور
خُدا فضل فرمائے تو اُن کی قربت
قیامت میں پانے کو جی چاہتا ہے
بقیعِ مبارک ہے اِک پاک گُلشن
ہے ازواج و آل و صحابہ کا مدفن
تصرُّف نہیں موت پر اپنا ورنہ
وہاں مر ہی جانے کو جی چاہتا ہے
یہ حسرت ہے دل کی، اے شوقِ فریدی!
قریبِ نبی ہو میری بھی رسائی
کرُوں پیش اُن کو میں نعتوں کا تحفہ
یہ حسرت مٹانے کو جی چاہتا ہے
شاعر:
شوق فریدی
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
میرا گھر بنانے کو جی چاہتا ہے
بچی زندگی اپنی ساری کی ساری
وہیں پر بِتانے کو جی چاہتا ہے
چلے تھے عُمر قتل کرنے نبی کو
رُخِ مصطفیٰ پر نظر جب پڑی تو
کہا، مجھ کو کلمہ پڑھا دیجے، آقا !
کہ اب قُرب پانے کو جی چاہتا ہے
بسا جب سے نظروں میں ہے آپ کا در
نہیں بھاتا آنکھوں کو اب کوئی منظر
عطا کیجیے پھر سے اِذنِ مدینہ
کہ پھر در پہ آنے کو جی چاہتا ہے
گورنر ہیں طیبہ مبارک شہر کے
وہ پیارے چچا ہیں خیر البشر کے
مِلے جن کے صدقے سے اِذنِ مدینہ
اُسی در پہ جانے کو جی چاہتا ہے
مدینے کی گلیوں کے دلکش نظارے
جہاں کھیلتے تھے وہ سبطین پیارے
خدایا ! اُنہی پاک راہوں میں اپنی
یہ آنکھیں بِچھانے کو جی چاہتا ہے
وہ جبلِ اُحد جو ہے پیارا نبی کا
ہے غارِ حرا میں اُجالا نبی کا
تجلّی سے اُس کی دِیوں کو جلا کر
وہیں بیٹھ جانے کو جی چاہتا ہے
وہ صدّیق و فاروق و عثمان و حیدر
جو ہیں سارے اصحابِ آقا کے سرور
خُدا فضل فرمائے تو اُن کی قربت
قیامت میں پانے کو جی چاہتا ہے
بقیعِ مبارک ہے اِک پاک گُلشن
ہے ازواج و آل و صحابہ کا مدفن
تصرُّف نہیں موت پر اپنا ورنہ
وہاں مر ہی جانے کو جی چاہتا ہے
یہ حسرت ہے دل کی، اے شوقِ فریدی!
قریبِ نبی ہو میری بھی رسائی
کرُوں پیش اُن کو میں نعتوں کا تحفہ
یہ حسرت مٹانے کو جی چاہتا ہے
شاعر:
شوق فریدی
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں