ہوا جاتا ہے رخصت ماہ رمضاں یا رسول اللہ | Hua Jata Hai Rukhsat Mah-e-Ramzan Ya Rasoolallah Lyrics in Urdu
ہُوا جاتا ہے رُخصت ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ
!
رہا اب چند گھڑیوں کا یہ مہماں، یا رسول اللہ !
خوشی کی لہر دوڑی ہر طرف رمضان جب آیا
ہے اب رنجیدہ رنجیدہ مسلماں، یا رسول اللہ !
مَسرّت ہی مَسرّت اور خوشی ہی تھی خوشی جِس دم
نظر آیا ہِلالِ ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ !
شہا ! اب غم کے مارے خون کے آنسو بہاتے ہیں
چلا تڑپا کے ہائے ! ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ !
چلا اب جلد یہ رَمضاں ستائیس آ گئی تاریخ
فَقط دو دن کا اب رَمضاں ہے مہماں، یا رسول اللہ !
فضائیں نور برساتیں، ہوائیں مُسکراتی تھیں
سماں اب ہو گیا ہر سَمت ویراں، یا رسول اللہ !
رِیاضت کچھ نہ کی ہم نے، عبادت کچھ نہ کی ہم نے
رہے بس ہر گھڑی مشغولِ عصیاں، یا رسول اللہ !
میں ہائے ! جی چُراتا ہی رہا رب کی عبادت سے
گزارا غفلتوں میں سارا رمضاں، یا رسول اللہ !
جدائی کی گھڑی جاں سوز ہے عُشّاقِ رَمضاں پر
چلا اِن کو رُلا کر ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ !
تڑپتے ہیں، بلکتے ہیں، قرار آتا نہیں اِن کو
بہت بے چین ہیں عُشّاقِ رمضاں، یا رسول اللہ !
گُناہوں کی سِیاہی چھا رہی ہے رُخ پہ محشر میں
مِرا چہرہ پئے رَمضاں ہو تاباں، یا رسول اللہ !
مہِ رَمضاں کی رُخصت جانِ عاشق پر قیامت ہے
گدا تیرے ہیں حیران و پریشاں، یا رسول اللہ !
خدا کے نیک بندے نیکیوں میں لگ گئے لیکن
گُنہ کرتا رہا عطّار ناداں، یا رسول اللہ !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
محمود عطاری
رہا اب چند گھڑیوں کا یہ مہماں، یا رسول اللہ !
خوشی کی لہر دوڑی ہر طرف رمضان جب آیا
ہے اب رنجیدہ رنجیدہ مسلماں، یا رسول اللہ !
مَسرّت ہی مَسرّت اور خوشی ہی تھی خوشی جِس دم
نظر آیا ہِلالِ ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ !
شہا ! اب غم کے مارے خون کے آنسو بہاتے ہیں
چلا تڑپا کے ہائے ! ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ !
چلا اب جلد یہ رَمضاں ستائیس آ گئی تاریخ
فَقط دو دن کا اب رَمضاں ہے مہماں، یا رسول اللہ !
فضائیں نور برساتیں، ہوائیں مُسکراتی تھیں
سماں اب ہو گیا ہر سَمت ویراں، یا رسول اللہ !
رِیاضت کچھ نہ کی ہم نے، عبادت کچھ نہ کی ہم نے
رہے بس ہر گھڑی مشغولِ عصیاں، یا رسول اللہ !
میں ہائے ! جی چُراتا ہی رہا رب کی عبادت سے
گزارا غفلتوں میں سارا رمضاں، یا رسول اللہ !
جدائی کی گھڑی جاں سوز ہے عُشّاقِ رَمضاں پر
چلا اِن کو رُلا کر ماہِ رمضاں، یا رسول اللہ !
تڑپتے ہیں، بلکتے ہیں، قرار آتا نہیں اِن کو
بہت بے چین ہیں عُشّاقِ رمضاں، یا رسول اللہ !
گُناہوں کی سِیاہی چھا رہی ہے رُخ پہ محشر میں
مِرا چہرہ پئے رَمضاں ہو تاباں، یا رسول اللہ !
مہِ رَمضاں کی رُخصت جانِ عاشق پر قیامت ہے
گدا تیرے ہیں حیران و پریشاں، یا رسول اللہ !
خدا کے نیک بندے نیکیوں میں لگ گئے لیکن
گُنہ کرتا رہا عطّار ناداں، یا رسول اللہ !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
محمود عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں