رمضان کے یہ لمحے اب دور ہو رہے ہیں | الوداع رمضان الوداع | Ramzan Ke Ye Lamhe Ab Door Ho Rahe Hain Lyrics in Urdu
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
رمضان کے یہ لمحے اب دُور ہو رہے ہیں
بس اَلوَداع کہیں ہم، مجبُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
ہم سے رہا نہ جائے، کچھ بھی کہا نہ جائے
تجھ سے جُدائی کا غم ہم سے سہا نہ جائے
ٹُوٹا ہے دل کا شیشہ اور چُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
رونق بھرا سماں تھا، نُوری تھا سب نظارہ
عصیاں کے جو ہیں مارے، ہے اُن کا تُو سہارا
جذبے عبادتوں کے اب دُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
افطار اور سحر میں رونق ہوئی تھی ہر سُو
رمضان کی بہاریں پھیلی ہوئی تھیں ہر سُو
چاروں طرف نظارے بے نُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
کر نہ سکے ہیں کوئی رب کی عبادتیں
ہم نے بُھلا ہی ڈالی رب کی عِنایتیں
نادِم ہیں، اے خدایا ! مغموم ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
اس آرزو سے ثانی محروم ہو نہ جائیں
روضۂ مصطفیٰ پر اے کاش ! تجھ کو پائیں
تیری جُدائی سے ہم رنجور ہو رہے ہیں
بس اَلوَداع کہیں ہم، مجبُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
شاعر:
محمد حنیف ثانی
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
رمضان کے یہ لمحے اب دُور ہو رہے ہیں
بس اَلوَداع کہیں ہم، مجبُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
ہم سے رہا نہ جائے، کچھ بھی کہا نہ جائے
تجھ سے جُدائی کا غم ہم سے سہا نہ جائے
ٹُوٹا ہے دل کا شیشہ اور چُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
رونق بھرا سماں تھا، نُوری تھا سب نظارہ
عصیاں کے جو ہیں مارے، ہے اُن کا تُو سہارا
جذبے عبادتوں کے اب دُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
افطار اور سحر میں رونق ہوئی تھی ہر سُو
رمضان کی بہاریں پھیلی ہوئی تھیں ہر سُو
چاروں طرف نظارے بے نُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
کر نہ سکے ہیں کوئی رب کی عبادتیں
ہم نے بُھلا ہی ڈالی رب کی عِنایتیں
نادِم ہیں، اے خدایا ! مغموم ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
اس آرزو سے ثانی محروم ہو نہ جائیں
روضۂ مصطفیٰ پر اے کاش ! تجھ کو پائیں
تیری جُدائی سے ہم رنجور ہو رہے ہیں
بس اَلوَداع کہیں ہم، مجبُور ہو رہے ہیں
اَلوَداع، رمضان ! اَلوَداع
شاعر:
محمد حنیف ثانی
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں