آنکھوں کو وہ پرکیف نظارے نہیں بھولے | Aankhon Ko Wo Pur Kaif Nazare Nahin Bhoole Lyrics in Urdu
آنکھوں کو وہ پُرکیف نظارے نہیں بُھولے
وہ دِن جو مدینے میں گُزارے نہیں بُھولے
پھر کیجے کرم، یا نبی ! حسنین کا صدقہ
شہر آپ کا یہ درد کے مارے نہیں بُھولے
بیچین ہے، اِک بار اُٹھے پھر وہی اُنگلی
مہتاب کو آقا کے اِشارے نہیں بُھولے
گِر جاؤں میں جی چاہے میرا پھر سے بھنور میں
آقا نے دیے تھے جو سہارے نہیں بُھولے
اسلام کے گُلشن کو بچایا تھا جنہوں نے
کربل کو وہ زہرا کے دُلارے نہیں بُھولے
طیبہ کی حسیں رات میں، فارُوقی ! ہماری
تقدیر کے چمکے جو سِتارے نہیں بُھولے
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
اسد رضا عطاری
قاری شاہد محمود
وہ دِن جو مدینے میں گُزارے نہیں بُھولے
پھر کیجے کرم، یا نبی ! حسنین کا صدقہ
شہر آپ کا یہ درد کے مارے نہیں بُھولے
بیچین ہے، اِک بار اُٹھے پھر وہی اُنگلی
مہتاب کو آقا کے اِشارے نہیں بُھولے
گِر جاؤں میں جی چاہے میرا پھر سے بھنور میں
آقا نے دیے تھے جو سہارے نہیں بُھولے
اسلام کے گُلشن کو بچایا تھا جنہوں نے
کربل کو وہ زہرا کے دُلارے نہیں بُھولے
طیبہ کی حسیں رات میں، فارُوقی ! ہماری
تقدیر کے چمکے جو سِتارے نہیں بُھولے
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
اسد رضا عطاری
قاری شاہد محمود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں