حاجیوں کے بن رہے ہیں قافلے پھر یا نبی | Hajiyon Ke Ban Rahe Hain Qafile Phir Ya Nabi Lyrics in Urdu
حاجیوں کے بن رہے ہیں قافلے پھر، یا نبی
!
پھر نظر میں پھر گئے حج کے مَناظر، یا نبی !
کر رہے ہیں جانے والے حج کی اب تیّاریاں
رہ نہ جاؤں میں کہیں کر دو کرم پھر، یا نبی !
آہ ! پلّے زر نہیں، رختِ سفر سرور ! نہیں
تم بُلا لو تم بُلانے پر ہو قادِر، یا نبی !
کِس قدر تھا خوش، مجھے جب پیش آیا تھا سفر
مجھ کو اب کی بار بھی بُلوائیے پھر، یا نبی !
دِل مِرا غمگین ہے اور جان بھی ہے مُضطرِب
مُرشدی کا واسطہ بُلوائیے پھر، یا نبی !
غم کے بادَل چھا رہے ہیں، آہ ! میرے قَلب پر
حاضِری کی دو اِجازت مجھ کو تم پھر، یا نبی !
گُنبدِ خضرا کے جلوے دیکھنے کب آؤں گا
کب تک اب تڑپاؤ گے تم مجھ کو آخِر، یا نبی !
آپ ہی اسباب، آقا ! پھر مُہیّا کِیجئے
پھر دِکھا دیجے مدینے کے مَناظِر، یا نبی !
کِس طرح تسکین دُوں گا میں دلِ غمگین کو
رَہ گیا گر حاضِری سے میں جو قاصِر، یا نبی !
مجھ پہ کیا گُزرے گی، آقا ! اِس برس گر رَہ گیا
میرا حالِ دل تو ہے سب تم پہ ظاہِر، یا نبی !
آہ ! طیبہ سے اگر میں دُور رہ کر مَر گیا
رُوح بھی رَنجُور ہوگی کِس قدر پھر، یا نبی !
مثلِ سابق اِس برس بھی کِیجئے نظرِ کرم
میں گُزشتہ سال آیا تھا بِالآخِر، یا نبی !
جو مدینے کے لیے رہتے ہیں، آقا ! بے قرار
وہ بھی ہو جائیں تِرے روضے پہ حاضِر، یا نبی !
چاک سینہ، چاک دل، سوزِ جگر اور چَشمِ تر
دیجئے مجھ کو طفیلِ عبدِ قادر، یا نبی !
بِالْیقیں قرآن عظمت پر تمہاری ہے گواہ
شاہد و قاسم ہو تم طیِّب ہو طاہر، یا نبی !
تم کو عِلمِ غیب مولا نے عطا فرما دیا
کر دیا ہر جا پہ حاضِر اور ناظِر، یا نبی !
اِستِقامت دین پر مجھ کو عطا فرمائیے
یا رسول اللہ ! برائے آلِ یاسر، یا نبی !
آپ سب نبیوں میں افضل اور میں بدکار آہ !
عاصِیوں میں ہُوں یگانہ اور نادِر، یا نبی !
عاصی و بدکار کے اپنے خدائے پاک سے
بخشوا دو سب صغائر اور کبائر، یا نبی !
بال بھی بِیکا نہ میرا تو کوئی کر پائے گا
کیُوں کہ میرے تم ہو حامی اور ناصِر، یا نبی !
تِشنگانِ دید کو ہو دید کی شَربت عطا
از طُفیلِ غوثِ اعظم عبدِ قادِر، یا نبی !
آہ ! میرا کیا بنے گا گر نہ حج پر جا سکا
ہو کرم عطّار پر ہو جائے حاضِر، یا نبی !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
حاجی محمد مشتاق عطاری
اسد رضا عطاری
حافظ عمر عطاری
مبشر حسان قادری
پھر نظر میں پھر گئے حج کے مَناظر، یا نبی !
کر رہے ہیں جانے والے حج کی اب تیّاریاں
رہ نہ جاؤں میں کہیں کر دو کرم پھر، یا نبی !
آہ ! پلّے زر نہیں، رختِ سفر سرور ! نہیں
تم بُلا لو تم بُلانے پر ہو قادِر، یا نبی !
کِس قدر تھا خوش، مجھے جب پیش آیا تھا سفر
مجھ کو اب کی بار بھی بُلوائیے پھر، یا نبی !
دِل مِرا غمگین ہے اور جان بھی ہے مُضطرِب
مُرشدی کا واسطہ بُلوائیے پھر، یا نبی !
غم کے بادَل چھا رہے ہیں، آہ ! میرے قَلب پر
حاضِری کی دو اِجازت مجھ کو تم پھر، یا نبی !
گُنبدِ خضرا کے جلوے دیکھنے کب آؤں گا
کب تک اب تڑپاؤ گے تم مجھ کو آخِر، یا نبی !
آپ ہی اسباب، آقا ! پھر مُہیّا کِیجئے
پھر دِکھا دیجے مدینے کے مَناظِر، یا نبی !
کِس طرح تسکین دُوں گا میں دلِ غمگین کو
رَہ گیا گر حاضِری سے میں جو قاصِر، یا نبی !
مجھ پہ کیا گُزرے گی، آقا ! اِس برس گر رَہ گیا
میرا حالِ دل تو ہے سب تم پہ ظاہِر، یا نبی !
آہ ! طیبہ سے اگر میں دُور رہ کر مَر گیا
رُوح بھی رَنجُور ہوگی کِس قدر پھر، یا نبی !
مثلِ سابق اِس برس بھی کِیجئے نظرِ کرم
میں گُزشتہ سال آیا تھا بِالآخِر، یا نبی !
جو مدینے کے لیے رہتے ہیں، آقا ! بے قرار
وہ بھی ہو جائیں تِرے روضے پہ حاضِر، یا نبی !
چاک سینہ، چاک دل، سوزِ جگر اور چَشمِ تر
دیجئے مجھ کو طفیلِ عبدِ قادر، یا نبی !
بِالْیقیں قرآن عظمت پر تمہاری ہے گواہ
شاہد و قاسم ہو تم طیِّب ہو طاہر، یا نبی !
تم کو عِلمِ غیب مولا نے عطا فرما دیا
کر دیا ہر جا پہ حاضِر اور ناظِر، یا نبی !
اِستِقامت دین پر مجھ کو عطا فرمائیے
یا رسول اللہ ! برائے آلِ یاسر، یا نبی !
آپ سب نبیوں میں افضل اور میں بدکار آہ !
عاصِیوں میں ہُوں یگانہ اور نادِر، یا نبی !
عاصی و بدکار کے اپنے خدائے پاک سے
بخشوا دو سب صغائر اور کبائر، یا نبی !
بال بھی بِیکا نہ میرا تو کوئی کر پائے گا
کیُوں کہ میرے تم ہو حامی اور ناصِر، یا نبی !
تِشنگانِ دید کو ہو دید کی شَربت عطا
از طُفیلِ غوثِ اعظم عبدِ قادِر، یا نبی !
آہ ! میرا کیا بنے گا گر نہ حج پر جا سکا
ہو کرم عطّار پر ہو جائے حاضِر، یا نبی !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
حاجی محمد مشتاق عطاری
اسد رضا عطاری
حافظ عمر عطاری
مبشر حسان قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں