ہم سوئے حشر چلیں گے شہ ابرار کے ساتھ | Hum Soo-e-Hashr Chalenge Shah-e-Abrar Ke Sath Lyrics in Urdu
ہم سُوئے حشر چلیں گے شہِ ابرار کے ساتھ
قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ
مدحتِ خواجَۂ دیں مدحتِ سرکار کے ساتھ
زندگی گُزری ہے کیفِیَّتِ سرشار کے ساتھ
میں بھی وابستہ ہُوں سرکار کے دربار کے ساتھ
خاک کا ذرّہ بھی ہے عالمِ انوار کے ساتھ
رہ گئے منزلِ سدرہ پہ پہنچ کر جبریل
چل نہیں سکتا فرشتہ تِری رفتار کے ساتھ
بَخْت بیدار ہے یاور ہے مُقَدَّر اُس کا
جس نے دیکھا ہے اُنہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ
یہ تو طیبہ کی محبّت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لِپٹ کر در و دیوار کے ساتھ
مِل ہی جائے گا کوئی خوانِ کرم کا ٹُکڑا
ہے تَعَلُّق جو سگانِ درِ سرکار کے ساتھ
اے خدا ! دی ہے اگر نعتِ نبی کی توفیق
حُسنِ کردار بھی دے لذّتِ گُفتار کے ساتھ
جب کُھلے حشر میں گیسوئے شفاعت اُن کے
ہم سے عاصی بھی نظر آئیں گے ابرار کے ساتھ
ایسا حج زحمت بے جا کے سِوا کچھ بھی نہیں
عشق محکم نہ ہو گر احمدِ مختار کے ساتھ
گر مدینے کا تَصَوُّر ہو تو ظُلمت کیسی ؟
ربط مضبوط رہے عالمِ انوار کے ساتھ
پُل سے مجھ سا بھی گنہگار گُزر جائے گا
ہوگی سرکار کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ
رات دن بھیج سلام اُن پہ ملائک کی طرح
پڑھ درود اُن پہ غُلامانِ وفادار کے ساتھ
دیکھ، اے معترضِ نعتِ رسولِ عربی !
قُرب حسّاں کو مِلا تھا انہی اشعار کے ساتھ
سب عطائیں ہیں خدا کی میرے مولا کے طُفیل
ورنہ یہ لُطف و کرم مجھ سے گنہگار کے ساتھ
ہم بھی مظہر سے سنیں گے کوئی نعتِ رنگیں
گر مُلاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ
شاعر:
حافظ مظہر الدین
نعت خواں:
قاری زبید رسول
وقار احمد رضا عطاری
قافلہ ہوگا رواں قافلہ سالار کے ساتھ
مدحتِ خواجَۂ دیں مدحتِ سرکار کے ساتھ
زندگی گُزری ہے کیفِیَّتِ سرشار کے ساتھ
میں بھی وابستہ ہُوں سرکار کے دربار کے ساتھ
خاک کا ذرّہ بھی ہے عالمِ انوار کے ساتھ
رہ گئے منزلِ سدرہ پہ پہنچ کر جبریل
چل نہیں سکتا فرشتہ تِری رفتار کے ساتھ
بَخْت بیدار ہے یاور ہے مُقَدَّر اُس کا
جس نے دیکھا ہے اُنہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ
یہ تو طیبہ کی محبّت کا اثر ہے ورنہ
کون روتا ہے لِپٹ کر در و دیوار کے ساتھ
مِل ہی جائے گا کوئی خوانِ کرم کا ٹُکڑا
ہے تَعَلُّق جو سگانِ درِ سرکار کے ساتھ
اے خدا ! دی ہے اگر نعتِ نبی کی توفیق
حُسنِ کردار بھی دے لذّتِ گُفتار کے ساتھ
جب کُھلے حشر میں گیسوئے شفاعت اُن کے
ہم سے عاصی بھی نظر آئیں گے ابرار کے ساتھ
ایسا حج زحمت بے جا کے سِوا کچھ بھی نہیں
عشق محکم نہ ہو گر احمدِ مختار کے ساتھ
گر مدینے کا تَصَوُّر ہو تو ظُلمت کیسی ؟
ربط مضبوط رہے عالمِ انوار کے ساتھ
پُل سے مجھ سا بھی گنہگار گُزر جائے گا
ہوگی سرکار کی رحمت جو گنہگار کے ساتھ
رات دن بھیج سلام اُن پہ ملائک کی طرح
پڑھ درود اُن پہ غُلامانِ وفادار کے ساتھ
دیکھ، اے معترضِ نعتِ رسولِ عربی !
قُرب حسّاں کو مِلا تھا انہی اشعار کے ساتھ
سب عطائیں ہیں خدا کی میرے مولا کے طُفیل
ورنہ یہ لُطف و کرم مجھ سے گنہگار کے ساتھ
ہم بھی مظہر سے سنیں گے کوئی نعتِ رنگیں
گر مُلاقات ہوئی شاعرِ دربار کے ساتھ
شاعر:
حافظ مظہر الدین
نعت خواں:
قاری زبید رسول
وقار احمد رضا عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں