کام آپ کا بندوں کو سدا رب سے ملانا | سرکار مدینہ | Kaam Aap Ka Bandon Ko Sada Rab Se Milana Lyrics in Urdu
کام آپ کا بندوں کو سدا رب سے مِلانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
کیوں آپ پہ قربان نہ ہو سارا زمانہ
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
آپ آئے تو آنے لگیں راحت کی ہَوائیں
آپ آئے تو چھانے لگیں رحمت کی گھٹائیں
ہر ایک کو حاصِل ہُوا خوشیوں کا خزانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
سر پر ہے سجا ختمِ نَبُوّت کا حسیں تاج
اللہ نے بخشی ہے فقط آپ کو معراج
قرآن میں ہے آپ کی عظمت کا ترانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
ہم بُھول نہیں سکتے ہیں طائِف کا وہ منظر
مارے گئے پتّھر پہ جہاں آپ کو پتّھر
روکے سے نہیں رُک گیا وہ اشک بہانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
کی آپ نے اقصیٰ میں رسُولوں کی اِمامت
صف باندھے کھڑی پیچھے تھی نبیوں کی جماعت
بُرّاق پہ پھر آپ ہوئے عرش روانہ
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
عُشّاق کی دن رات یہی رب سے گُزارش
خواہش ہے اگر کوئی تو وہ آپ کی خواہش
ہو آپ کی نگری میں ہمارا بھی ٹِھکانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
کیونکر وہ کِسی اور کے رستے پہ چلے گا
کیونکر وہ کسی اور کی سیرت میں ڈھلے گا
ہے دل سے عزیز آپ کا ہی ایک دِوانہ
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
شاعر:
عبدالعزیز
نعت خواں:
غلام مصطفیٰ قادری
ساحل رضا قادری
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
کیوں آپ پہ قربان نہ ہو سارا زمانہ
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
آپ آئے تو آنے لگیں راحت کی ہَوائیں
آپ آئے تو چھانے لگیں رحمت کی گھٹائیں
ہر ایک کو حاصِل ہُوا خوشیوں کا خزانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
سر پر ہے سجا ختمِ نَبُوّت کا حسیں تاج
اللہ نے بخشی ہے فقط آپ کو معراج
قرآن میں ہے آپ کی عظمت کا ترانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
ہم بُھول نہیں سکتے ہیں طائِف کا وہ منظر
مارے گئے پتّھر پہ جہاں آپ کو پتّھر
روکے سے نہیں رُک گیا وہ اشک بہانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
کی آپ نے اقصیٰ میں رسُولوں کی اِمامت
صف باندھے کھڑی پیچھے تھی نبیوں کی جماعت
بُرّاق پہ پھر آپ ہوئے عرش روانہ
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
عُشّاق کی دن رات یہی رب سے گُزارش
خواہش ہے اگر کوئی تو وہ آپ کی خواہش
ہو آپ کی نگری میں ہمارا بھی ٹِھکانا
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
کیونکر وہ کِسی اور کے رستے پہ چلے گا
کیونکر وہ کسی اور کی سیرت میں ڈھلے گا
ہے دل سے عزیز آپ کا ہی ایک دِوانہ
سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ !
شاعر:
عبدالعزیز
نعت خواں:
غلام مصطفیٰ قادری
ساحل رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں