مری زندگی مری آبرو یہ عطائے یاد رسول ہے | Meri Zindagi Meri Aabroo Ye Ata-e-Yaad-e-Rasool Hai Lyrics in Urdu
مِری زندگی مِری آبرُو، یہ عطائے یادِ رسُول ہے
جو یہ درد ہے تو قرارِ جاں، ہے اگر یہ زخم تو پُھول ہے
وہی زندگی تو ہے بندگی، کہ جو وقفِ نعتِ رسُول ہے
جو فقط اُنہی کے لیے اُٹھے، وہ نگاہ اُن کو قبول ہے
جو تِری نگاہ میں آ گیا، وہ بڑی پناہ میں آ گیا
تِرے واسطے سے ہے مطمئن، تِرے واسطے ہی ملُول ہے
مِرا سوز بھی، مِرا ساز بھی، مِرا دل بھی، دل کا گُداز بھی
مِری چشمِ تر کی بہار ہے، مجھے جان و دل سے قبول ہے
تو فِدا ہے حور و قصور پر، مجھے ناز ذکرِ رسُول پر
تِری خُلد کیسی ہے تُو بتا، مِری خُلد کوئے رسُول ہے
تِرے ذِکر کی ہیں یہ برکتیں، مِرے بِگڑے کام سنور گئے
جہاں تیری یاد ہے دل نشیں، وہیں رحمتوں کا نُزول ہے
یہی آرزُو جو ہو سُرخ رُو، مِلے دو جہان کی آبرو
میں کہوں غُلام ہُوں آپ کا، وہ کہیں کہ ہم کو قبول ہے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے، تِرے لب پہ اَنْجُمِ خوش نوا !
کبھی حمدِ ربِّ جلیل ہے، کبھی نعتِ پاکِ رسُول ہے
شاعر:
قمر انجم
نعت خواں:
ذوالفقار علی حسینی
راؤ حسان علی اسد
جو یہ درد ہے تو قرارِ جاں، ہے اگر یہ زخم تو پُھول ہے
وہی زندگی تو ہے بندگی، کہ جو وقفِ نعتِ رسُول ہے
جو فقط اُنہی کے لیے اُٹھے، وہ نگاہ اُن کو قبول ہے
جو تِری نگاہ میں آ گیا، وہ بڑی پناہ میں آ گیا
تِرے واسطے سے ہے مطمئن، تِرے واسطے ہی ملُول ہے
مِرا سوز بھی، مِرا ساز بھی، مِرا دل بھی، دل کا گُداز بھی
مِری چشمِ تر کی بہار ہے، مجھے جان و دل سے قبول ہے
تو فِدا ہے حور و قصور پر، مجھے ناز ذکرِ رسُول پر
تِری خُلد کیسی ہے تُو بتا، مِری خُلد کوئے رسُول ہے
تِرے ذِکر کی ہیں یہ برکتیں، مِرے بِگڑے کام سنور گئے
جہاں تیری یاد ہے دل نشیں، وہیں رحمتوں کا نُزول ہے
یہی آرزُو جو ہو سُرخ رُو، مِلے دو جہان کی آبرو
میں کہوں غُلام ہُوں آپ کا، وہ کہیں کہ ہم کو قبول ہے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے، تِرے لب پہ اَنْجُمِ خوش نوا !
کبھی حمدِ ربِّ جلیل ہے، کبھی نعتِ پاکِ رسُول ہے
شاعر:
قمر انجم
نعت خواں:
ذوالفقار علی حسینی
راؤ حسان علی اسد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں