مجھ کو یہ کہہ کے ستاتے ہیں زمانے والے | Mujh Ko Ye Keh Ke Satate Hain Zamane Wale Lyrics in Urdu
مجھ کو یہ کہہ کے ستاتے ہیں زمانے والے
کب بُلائیں گے تجھے سب کو بلانے والے
راستہ روک نہ پائیں گے زمانے والے
جب مدینے میں بُلائیں گے بلانے والے
جب چلُوں شہرِ مدینہ سے تو سرکار کہیں
لوٹ آ جا، او میرے شہر سے جانے والے
مجھ کو اِس بات کا ہر رات یقیں رہتا ہے
آپ ہیں آج میرے خواب میں آنے والے
آپ کو دیکھ کے محشر میں کہیں گے عاصی
آ گئے ہم کو جہنّم سے بچانے والے
کاش ! محشر میں یہ کہہ کہہ کے بُلائیں آقا
آ اِدھر آ، میرے نعلین اُٹھانے والے
دین کی راہ میں گھر بار لُٹا دیتے ہیں
ایسے ہوتے ہیں محمّد کے گھرانے والے
اب کوئی خوف نہیں مجھ کو، زمانے والو !
میرے خواجہ ہیں میری لاج بچانے والے
حشر تک پھولے پھلے مسلکِ اعلیٰ حضرت
مِٹ گئے خود ہی زمانے سے مِٹانے والے
اُن سے کہہ دو کہ وہ آئینے میں چہرہ دیکھیں
اپنے جیسا میرے آقا کو بتانے والے
نعت خواں:
عنبر مشاہدی
سیف رضا کانپوری
کب بُلائیں گے تجھے سب کو بلانے والے
راستہ روک نہ پائیں گے زمانے والے
جب مدینے میں بُلائیں گے بلانے والے
جب چلُوں شہرِ مدینہ سے تو سرکار کہیں
لوٹ آ جا، او میرے شہر سے جانے والے
مجھ کو اِس بات کا ہر رات یقیں رہتا ہے
آپ ہیں آج میرے خواب میں آنے والے
آپ کو دیکھ کے محشر میں کہیں گے عاصی
آ گئے ہم کو جہنّم سے بچانے والے
کاش ! محشر میں یہ کہہ کہہ کے بُلائیں آقا
آ اِدھر آ، میرے نعلین اُٹھانے والے
دین کی راہ میں گھر بار لُٹا دیتے ہیں
ایسے ہوتے ہیں محمّد کے گھرانے والے
اب کوئی خوف نہیں مجھ کو، زمانے والو !
میرے خواجہ ہیں میری لاج بچانے والے
حشر تک پھولے پھلے مسلکِ اعلیٰ حضرت
مِٹ گئے خود ہی زمانے سے مِٹانے والے
اُن سے کہہ دو کہ وہ آئینے میں چہرہ دیکھیں
اپنے جیسا میرے آقا کو بتانے والے
نعت خواں:
عنبر مشاہدی
سیف رضا کانپوری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں