کس کو معلوم ہے کس کو ہے یہ پتا | Kis Ko Maloom Hai Kis Ko Hai Ye Pata Lyrics in Urdu
کس کو معلوم ہے، کس کو ہے یہ پتا
رب تعالیٰ کو محشر میں کیا چاہیے
ہر کسی کو خدا کی رضا چاہیے
اور خدا کو نبی کی رضا چاہیے
کیسے ایماں بچائیں یہ رہتا ہے غم
سب کو اپنی پڑی ہے، کہاں جائیں ہم
ایسے حالات میں اور اِس دور میں
پھر بریلی کا احمد رضا چاہیے
تھے بہتّر مگر دبدبہ یاد کر
ہے حُسینی تو پھر کربلا یاد کر
ظُلْم کا سر یہاں کاٹنے کے لیے
دل میں شبّیر کا حوصلہ چاہیے
گِرتے گِرتے یقیناً سنبھل جائے گا
میرا دعویٰ ہے غم سے نِکل جائے گا
کامیابی قدم چُوم لے گی تیرے
شرط ہے باپ ماں کی دُعا چاہیے
وہ مُجاہد میرا ارشد القادری
کاش ! آ جاتے اختر رضا ازہری
ہر طرف سے یہ آنے لگی پھر صدا
سُنّت کو وہی قافلہ چاہیے
چھوڑ کر مصطفیٰ کو کہاں جائے گا
دیکھنا روزِ محشر میں پچھتائے گا
دامنِ مصطفیٰ آج ہی تھام لے
خُلد میں گر تجھے داخلہ چاہیے
رب نے قرآن میں کر دِیا فیصلہ
عِشق ہوگا نبی سے تو ہوگا بھلا
جتنے غُستاخ ہیں، جائیں گے نار میں
خُلد کو عاشقِ مصطفیٰ چاہیے
میرے سرکار کا جو ثنا خوان ہے
شاعِروں میں الگ جس کی پہچان ہے
جُھوم کر نعت پڑھتا ہے ہر بزم میں
اس لیے مجھ کو عظمت رضا چاہیے
شاعر:
عظمت رضا بھاگلپوری
نعت خواں:
عظمت رضا بھاگلپوری
رب تعالیٰ کو محشر میں کیا چاہیے
ہر کسی کو خدا کی رضا چاہیے
اور خدا کو نبی کی رضا چاہیے
کیسے ایماں بچائیں یہ رہتا ہے غم
سب کو اپنی پڑی ہے، کہاں جائیں ہم
ایسے حالات میں اور اِس دور میں
پھر بریلی کا احمد رضا چاہیے
تھے بہتّر مگر دبدبہ یاد کر
ہے حُسینی تو پھر کربلا یاد کر
ظُلْم کا سر یہاں کاٹنے کے لیے
دل میں شبّیر کا حوصلہ چاہیے
گِرتے گِرتے یقیناً سنبھل جائے گا
میرا دعویٰ ہے غم سے نِکل جائے گا
کامیابی قدم چُوم لے گی تیرے
شرط ہے باپ ماں کی دُعا چاہیے
وہ مُجاہد میرا ارشد القادری
کاش ! آ جاتے اختر رضا ازہری
ہر طرف سے یہ آنے لگی پھر صدا
سُنّت کو وہی قافلہ چاہیے
چھوڑ کر مصطفیٰ کو کہاں جائے گا
دیکھنا روزِ محشر میں پچھتائے گا
دامنِ مصطفیٰ آج ہی تھام لے
خُلد میں گر تجھے داخلہ چاہیے
رب نے قرآن میں کر دِیا فیصلہ
عِشق ہوگا نبی سے تو ہوگا بھلا
جتنے غُستاخ ہیں، جائیں گے نار میں
خُلد کو عاشقِ مصطفیٰ چاہیے
میرے سرکار کا جو ثنا خوان ہے
شاعِروں میں الگ جس کی پہچان ہے
جُھوم کر نعت پڑھتا ہے ہر بزم میں
اس لیے مجھ کو عظمت رضا چاہیے
شاعر:
عظمت رضا بھاگلپوری
نعت خواں:
عظمت رضا بھاگلپوری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں