مال و دولت کی چاہت بڑی چیز ہے | یا نبی آپ کا آستانہ ملے | Mal-o-Daulat Ki Chahat Badi Cheez Hai Lyrics in Urdu
مال و دولت کی چاہت بڑی چیز ہے
مِٹنے والی تمنّا نہیں چاہیے
یا نبی ! آپ کا آستانہ مِلے
اور کوئی خزانہ نہیں چاہیے
موت کے وقت کا ڈر ستاتا ہے اب
بِسترِ مَرْگ ہے اور ہے جاں بہ لب
آخری وقت ہے آپ آ جائیے
مرنے والے کو دنیا نہیں چاہیے
مصطفیٰ کی غلامی مِلی ہے مجھے
خوبصورت نِشانی مِلی ہے مجھے
جن کا سایہ نہیں اُن کے سائے میں ہُوں
مجھ کو غیروں کا سایہ نہیں چاہیے
رو رہا ہے گُنہگار تنہائی میں
میرے اپنے بھی ہیں میری رُسوائی میں
آپ کے سامنے ہُوں کرم کیجیے
دُوسروں کا سہارا نہیں چاہیے
ہے وفا کا امیں یارِ غارِ نبی
جس کے پیچھے علی نے نمازیں پڑھی
اُس کو چوتھا خلیفہ بھی ٹُھکرائے گا
جس کو پہلا خلیفہ نہیں چاہیے
ایسے کِردار ہیں اُن کے دربار میں
جن کا ثانی نہیں کوئی سنسار میں
میرے آگے سخاوت ہے عُثمان کی
مجھ کو حاتِم کا قِصّہ نہیں چاہیے
عاشقِ مصطفیٰ باپ نے یہ کہا
میری بیٹی غریبوں کے گھر جائے گی
جن کے دل میں نبی کی محبّت نہیں
اُن امیروں کا رِشتہ نہیں چاہیے
عشقِ سرکار ہم کو مِلا ہے یہیں
چھوڑ کر ہم نہ جائیں گے یہ در کہیں
اعلیٰ حضرت کا نقشِ قدم مِل گیا
نجدیوں کا عقیدہ نہیں چاہیے
ہیں عطائے نبی خواجہ ہندل ولی
بارگاہِ نبی سے حکومت مِلی
مُلکِ ہندوستاں کا ہے تُو بادشاہ
دُوسرا کوئی راجا نہیں چاہیے
مرکزِ اہلِ سُنّت کا اعلان ہے
میرے تاجِ شریعت کا فرمان ہے
خواجۂ پاک کا در مِلا ہے مجھے
ڈھونگیوں کا وسیلہ نہیں چاہیے
نعت ہی بخشوائے گی ایمان ہے
نعت نُورِ مُجَسّم کی پہچان ہے
نعت ہی عِشق ہے، نعت ہی جان ہے
اور کوئی اساسہ نہیں چاہیے
شاعر:
غلام نور مجسم
نعت خوان:
غلام نور مجسم
مِٹنے والی تمنّا نہیں چاہیے
یا نبی ! آپ کا آستانہ مِلے
اور کوئی خزانہ نہیں چاہیے
موت کے وقت کا ڈر ستاتا ہے اب
بِسترِ مَرْگ ہے اور ہے جاں بہ لب
آخری وقت ہے آپ آ جائیے
مرنے والے کو دنیا نہیں چاہیے
مصطفیٰ کی غلامی مِلی ہے مجھے
خوبصورت نِشانی مِلی ہے مجھے
جن کا سایہ نہیں اُن کے سائے میں ہُوں
مجھ کو غیروں کا سایہ نہیں چاہیے
رو رہا ہے گُنہگار تنہائی میں
میرے اپنے بھی ہیں میری رُسوائی میں
آپ کے سامنے ہُوں کرم کیجیے
دُوسروں کا سہارا نہیں چاہیے
ہے وفا کا امیں یارِ غارِ نبی
جس کے پیچھے علی نے نمازیں پڑھی
اُس کو چوتھا خلیفہ بھی ٹُھکرائے گا
جس کو پہلا خلیفہ نہیں چاہیے
ایسے کِردار ہیں اُن کے دربار میں
جن کا ثانی نہیں کوئی سنسار میں
میرے آگے سخاوت ہے عُثمان کی
مجھ کو حاتِم کا قِصّہ نہیں چاہیے
عاشقِ مصطفیٰ باپ نے یہ کہا
میری بیٹی غریبوں کے گھر جائے گی
جن کے دل میں نبی کی محبّت نہیں
اُن امیروں کا رِشتہ نہیں چاہیے
عشقِ سرکار ہم کو مِلا ہے یہیں
چھوڑ کر ہم نہ جائیں گے یہ در کہیں
اعلیٰ حضرت کا نقشِ قدم مِل گیا
نجدیوں کا عقیدہ نہیں چاہیے
ہیں عطائے نبی خواجہ ہندل ولی
بارگاہِ نبی سے حکومت مِلی
مُلکِ ہندوستاں کا ہے تُو بادشاہ
دُوسرا کوئی راجا نہیں چاہیے
مرکزِ اہلِ سُنّت کا اعلان ہے
میرے تاجِ شریعت کا فرمان ہے
خواجۂ پاک کا در مِلا ہے مجھے
ڈھونگیوں کا وسیلہ نہیں چاہیے
نعت ہی بخشوائے گی ایمان ہے
نعت نُورِ مُجَسّم کی پہچان ہے
نعت ہی عِشق ہے، نعت ہی جان ہے
اور کوئی اساسہ نہیں چاہیے
شاعر:
غلام نور مجسم
نعت خوان:
غلام نور مجسم
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں