چلو کریں مل کر چرچا حضور کا | Chalo Karein Mil Kar Charcha Huzoor Ka Lyrics in Urdu
عاشِقوں کا راج ہے، محفلوں کا تاج ہے
جلْسے ہیں، جُلُوس ہیں، جھومتا سماج ہے
عِشْق کا مِزاج ہے، عِشْق کا مِزاج ہے
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
آئے شاہِ انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
کیا سماں ہے نور کا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
اُترا ہے چاند گھر میں مولا کے نُور کا
ہونے لگا ہے گھر گھر چرچا حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
پھیلی ہے نُوری کِرنیں دیکھو جگہ جگہ
آیا ہے یہ مہینہ کیف و سُرُور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
میلادِ مصطفیٰ کی محفل سجائیں گے ہم
یہ فیصلہ ہے، یارو! اہلِ شُعُور کا
جبریل کی ہے سُنّت پڑھ لو حدیث میں
لہرائے گا جہاں میں پرچم حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
آئے شاہِ انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ!
کیا سماں ہے نُور کا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
بجتا ہے نام اُن کا دل کی دھڑک دھڑک میں
سانسوں میں گُونجتا ہے ترانہ حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
کھویا ہے اُن کے نام میں، سیرت کے کام میں
دیوانہ بن گیا ہے اُجاگر حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
آئے شاہِ انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
کیا سماں ہے نُور کا ! مرحبا یا مُصطفیٰ !
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
غلام مصطفیٰ قادری
جلْسے ہیں، جُلُوس ہیں، جھومتا سماج ہے
عِشْق کا مِزاج ہے، عِشْق کا مِزاج ہے
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
آئے شاہِ انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
کیا سماں ہے نور کا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
اُترا ہے چاند گھر میں مولا کے نُور کا
ہونے لگا ہے گھر گھر چرچا حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
پھیلی ہے نُوری کِرنیں دیکھو جگہ جگہ
آیا ہے یہ مہینہ کیف و سُرُور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
میلادِ مصطفیٰ کی محفل سجائیں گے ہم
یہ فیصلہ ہے، یارو! اہلِ شُعُور کا
جبریل کی ہے سُنّت پڑھ لو حدیث میں
لہرائے گا جہاں میں پرچم حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
آئے شاہِ انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ!
کیا سماں ہے نُور کا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
بجتا ہے نام اُن کا دل کی دھڑک دھڑک میں
سانسوں میں گُونجتا ہے ترانہ حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
کھویا ہے اُن کے نام میں، سیرت کے کام میں
دیوانہ بن گیا ہے اُجاگر حضور کا
جگہ جگہ گھر گھر چرچا حضور کا
چلو کریں مِل کر چرچا حضور کا
آئے شاہِ انبیا ! مرحبا یا مصطفیٰ !
کیا سماں ہے نُور کا ! مرحبا یا مُصطفیٰ !
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
غلام مصطفیٰ قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں