جدھر دیکھیے رحمتوں کا ہے سایہ | حضور آ رہے ہیں | Huzoor Aa Rahe Hain Lyrics in Urdu
مرحبا مرحبا، مرحبا يا مصطفیٰ !
مرحبا مرحبا، مرحبا يا مصطفیٰ !
اُٹھا کے پرچم آقا کا
نعرہ لگاؤ آقا کا
مرحبا مرحبا، يا رسول اللہ !
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
جِدھر دیکھیے رحمتوں کا ہے سایہ
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
ہے خوشیوں میں ڈوبا ہُوا کُل زمانہ
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
یٰسین کی آمد ! مرحبا !
طٰہٰ کی آمد ! مرحبا !
حلیمہ ! تمہاری غریبی مِٹانے
تمہارا مکاں رشکِ جنّت بنانے
وہ دیکھو مُقَدّر جگانے تمہارا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
زمیں سج گئی ہے، فلک سج گیا ہے
ہر اِک لب پہ صلی علیٰ کی صدا ہے
لگاتے ہیں کعبے پہ جبریل جھنڈا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
اُٹھا کے پرچم آقا کا
نعرہ لگاؤ آقا کا
مرحبا مرحبا، يا رسول اللہ !
اُٹھو غم کے مارو ! چلو مُسکُراؤ
مسرّت کے تم شادیانے بجاؤ
یتیموں، غریبوں کا بن کر سہارا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
یٰسین کی آمد ! مرحبا !
طٰہٰ کی آمد ! مرحبا !
زمیں تا فلک آج کیوں روشنی ہے
جبیں آج کعبے کی کیونکر جُھکی ہے
فرشتوں نے مل کے یہ مُژدہ سُنایا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
سبھی حُور و غِلماں مناتے ہیں خوشیاں
مُعطّر مُعطّر ہے سارا گُلِستاں
سُنا، سیف ! اُن کی وِلادت کا نغمہ
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
اُٹھا کے پرچم آقا کا
نعرہ لگاؤ آقا کا
مرحبا مرحبا، يا رسول اللہ !
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
مرحبا مرحبا، مرحبا يا مصطفیٰ !
اُٹھا کے پرچم آقا کا
نعرہ لگاؤ آقا کا
مرحبا مرحبا، يا رسول اللہ !
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
جِدھر دیکھیے رحمتوں کا ہے سایہ
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
ہے خوشیوں میں ڈوبا ہُوا کُل زمانہ
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
یٰسین کی آمد ! مرحبا !
طٰہٰ کی آمد ! مرحبا !
حلیمہ ! تمہاری غریبی مِٹانے
تمہارا مکاں رشکِ جنّت بنانے
وہ دیکھو مُقَدّر جگانے تمہارا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
زمیں سج گئی ہے، فلک سج گیا ہے
ہر اِک لب پہ صلی علیٰ کی صدا ہے
لگاتے ہیں کعبے پہ جبریل جھنڈا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
اُٹھا کے پرچم آقا کا
نعرہ لگاؤ آقا کا
مرحبا مرحبا، يا رسول اللہ !
اُٹھو غم کے مارو ! چلو مُسکُراؤ
مسرّت کے تم شادیانے بجاؤ
یتیموں، غریبوں کا بن کر سہارا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
یٰسین کی آمد ! مرحبا !
طٰہٰ کی آمد ! مرحبا !
زمیں تا فلک آج کیوں روشنی ہے
جبیں آج کعبے کی کیونکر جُھکی ہے
فرشتوں نے مل کے یہ مُژدہ سُنایا
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
سبھی حُور و غِلماں مناتے ہیں خوشیاں
مُعطّر مُعطّر ہے سارا گُلِستاں
سُنا، سیف ! اُن کی وِلادت کا نغمہ
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
حضور آ رہے ہیں، حضور آ رہے ہیں
اُٹھا کے پرچم آقا کا
نعرہ لگاؤ آقا کا
مرحبا مرحبا، يا رسول اللہ !
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں