نور والا آیا ہے نور لے کر آیا ہے | Noor Wala Aaya Hai Noor Le Kar Aaya Hai Lyrics in Urdu
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں گے
تب تلک جشنِ ولادت ہم مناتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
نعتِ محبُوبِ خدا سُنتے سُناتے جائیں گے
یا رسُولَ اللّٰہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
جشنِ میلادِ مُبارک کیسے چُھوڑیں ہم بھلا
جِن کا کھاتے ہیں اُنہیں کے گِیت گاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
چار جانب ہم دِیے گھی کے جلاتے جائیں گے
گھر تو گھر سارے مَحَلّے کو سجاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
عیدِ میلادُ النّبی کی شب چَراغاں کر کے ہم
قبر نُورِ مصطفیٰ سے جگمگاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
تم کرو جَشْنِ ولادت کی خوشی میں روشنی
وہ تمہاری گورِ تِیرہ جگمگاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
حَشْر میں زیرِ لِوائے حمد، اے عطّار ! ہم
نعتِ سُلطانِ مدینہ گُنگُناتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
بہرِ بخشش پاس اپنے کچھ نہیں اِس کے سِوا
عُمْر بھر نعتیں سُنیں گے اور سُناتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
نعت خوانی موت بھی ہم سے چُھڑا سکتی نہیں
قبر میں بھی مصطفیٰ کے گِیت گاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
یا رسولَ اللّٰہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے
ہم نے یہ نعرہ لگایا اپنا بیڑا پار ہے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
فرحان علی قادری
ساحل رضا قادری
غلام مصطفیٰ قادری
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
جب تلک یہ چاند تارے جِھلمِلاتے جائیں گے
تب تلک جشنِ ولادت ہم مناتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
نعتِ محبُوبِ خدا سُنتے سُناتے جائیں گے
یا رسُولَ اللّٰہ کا نعرہ لگاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
جشنِ میلادِ مُبارک کیسے چُھوڑیں ہم بھلا
جِن کا کھاتے ہیں اُنہیں کے گِیت گاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
چار جانب ہم دِیے گھی کے جلاتے جائیں گے
گھر تو گھر سارے مَحَلّے کو سجاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
عیدِ میلادُ النّبی کی شب چَراغاں کر کے ہم
قبر نُورِ مصطفیٰ سے جگمگاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
تم کرو جَشْنِ ولادت کی خوشی میں روشنی
وہ تمہاری گورِ تِیرہ جگمگاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
حَشْر میں زیرِ لِوائے حمد، اے عطّار ! ہم
نعتِ سُلطانِ مدینہ گُنگُناتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
بہرِ بخشش پاس اپنے کچھ نہیں اِس کے سِوا
عُمْر بھر نعتیں سُنیں گے اور سُناتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
نعت خوانی موت بھی ہم سے چُھڑا سکتی نہیں
قبر میں بھی مصطفیٰ کے گِیت گاتے جائیں گے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
یا رسولَ اللّٰہ کے نعرے سے ہم کو پیار ہے
ہم نے یہ نعرہ لگایا اپنا بیڑا پار ہے
نُور والا آیا ہے، نُور لے کر آیا ہے
سارے عالم میں یہ دیکھو کیسا نُور چھایا ہے
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا رَسُولَ اللّٰه !
الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ يَا حَبِیْبَ اللّٰه !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
فرحان علی قادری
ساحل رضا قادری
غلام مصطفیٰ قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں