نور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے | نور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا | Noor Wale Mustafa Aa Gaye Chha Gaye Lyrics in Urdu
خوشیوں میں سارا جہاں ہے، نُوری نُوری یہ سماں ہے
بچّہ بچّہ جُھوم اُٹھا ہے، ہر دیوانہ کہہ رہا ہے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
ہر گلی کو قُمقُموں سے ہم سجاتے جائیں گے
آمدِ سرکار پر خوشیاں مناتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
رحمتوں کے تاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
دو جہاں کے راج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عرش کی میراج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
میرے آقا نُور والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عاصِیوں کی لاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
بارہویں کے جشن سے ہم کو بڑا ہی پیار ہے
خوش دِلی سے ہر برس ہم یہ مناتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
عاشقِ میلاد ہیں ہم، یہ ہماری شان ہے
حشر تک میلاد پر دُھومیں مچاتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
سُنّتِ جبریل ہرگز ہم نہ چھوڑیں گے کبھی
بارہویں پر سبز جھنڈے ہم لگاتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
ساری عیدوں سے بڑی ہے عیدِ میلاد النبی
سَیف ! ہم یہ ساری دنیا کو بتاتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
رحمتوں کے تاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
دو جہاں کے راج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عرش کی میراج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
میرے آقا نُور والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عاصِیوں کی لاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ شہرِ حرم میں آ گئے
دیکھتے ہی دیکھتے سارے جہاں پہ چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
جگمگائی ہے یہ دنیا مصطفیٰ کے نُور سے
مہر چمکا ماہ چمکا مصطفیٰ کے نُور سے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
جشن آقا پر سجیں گلیاں سِتاروں کی طرح
دل میں خوشیاں رقص کرتی ہیں بہاروں کی طرح
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
مرحبا یا مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ !
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
حضور کی آمد ! مرحبا !
پُر نُور کی آمد ! مرحبا !
مرحبا یا مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ !
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے در پر آنے والا ہے
مرحبا یا مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ !
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
حضور کی آمد ! مرحبا !
پُر نُور کی آمد ! مرحبا !
نُور آ گیا، نُور آ گیا
آیا نُور، چھایا نُور
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
آقا کی آمد ! مرحبا !
داتا کی آمد ! مرحبا !
سب جُھوم کے بولو ! مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
آج تو سارا جہاں ہے نُور میں ڈُوبا ہُوا
جس طرف دیکھو سماں ہے نُور میں ڈُوبا ہُوا
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشیاں لُٹانے آ گئے
آ گئے آقا نئی دنیا بسانے آ گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
آسماں پر چھا گئی ہیں رحمتوں کی بدلیاں
کون آئے ہیں کہ برسی چھم چھما چھم بُوندیاں
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
سلام مصطفیٰ ! سلام مصطفیٰ !
سلام مصطفیٰ ! سلام مصطفیٰ !
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوبِ سُبحانی !
سلام اے فخر موجودات فخرِ نوعِ انسانی !
سلام اُس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اُس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بِچھونا تھا
سلام اُس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اُس پر کہ جس نے چاند کو دو ٹُکڑے فرمایا
سلام اُس پر کہ جس کے حُکْم سے سُورج پلٹ آیا
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
آقا کی آمد ! مرحبا !
داتا کی آمد ! مرحبا !
سب جُھوم کے بولو ! مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور دائیں نُور بائیں، نُور آگے، پیچھے نُور
جُھرمٹوں میں نُور کے آئے سراپا رب کے نُور
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
زندگی بھر نعت کی محفل سجاتے جائیں گے
جیسے بھی حالات ہُوں اُن کا علم لہرائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
بارہویں کے دن میں جنّت کے نظارے چھا گئے
اُن کے قدموں میں، اُجاگر ! چاند تارے آ گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
آ گئی ہے، چھا گئی ہے سبز جھنڈوں کی بہار
عیدِ میلاد النبی ہے جُھومو جُھومو، میرے یار !
میرے آقا آئے جُھومو
میرے داتا آئے جُھومو
سب کے ہامی آئے جُھومو
سب کے یاور آئے جُھومو
اِس طرف جو نُور ہے تو اُس طرف بھی نُور ہے
ذرّہ ذرّہ سب جہاں کا نُور سے معمور ہے
میرے آقا آئے جُھومو
میرے داتا آئے جُھومو
سب کے ہامی آئے جُھومو
سب کے یاور آئے جُھومو
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
بچّہ بچّہ جُھوم اُٹھا ہے، ہر دیوانہ کہہ رہا ہے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
ہر گلی کو قُمقُموں سے ہم سجاتے جائیں گے
آمدِ سرکار پر خوشیاں مناتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
رحمتوں کے تاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
دو جہاں کے راج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عرش کی میراج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
میرے آقا نُور والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عاصِیوں کی لاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
بارہویں کے جشن سے ہم کو بڑا ہی پیار ہے
خوش دِلی سے ہر برس ہم یہ مناتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
عاشقِ میلاد ہیں ہم، یہ ہماری شان ہے
حشر تک میلاد پر دُھومیں مچاتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
سُنّتِ جبریل ہرگز ہم نہ چھوڑیں گے کبھی
بارہویں پر سبز جھنڈے ہم لگاتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
ساری عیدوں سے بڑی ہے عیدِ میلاد النبی
سَیف ! ہم یہ ساری دنیا کو بتاتے جائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے مرحبا !
رحمتوں کے تاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
دو جہاں کے راج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عرش کی میراج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
میرے آقا نُور والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
عاصِیوں کی لاج والے ! مرحبا یا مصطفیٰ !
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ شہرِ حرم میں آ گئے
دیکھتے ہی دیکھتے سارے جہاں پہ چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
جگمگائی ہے یہ دنیا مصطفیٰ کے نُور سے
مہر چمکا ماہ چمکا مصطفیٰ کے نُور سے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
جشن آقا پر سجیں گلیاں سِتاروں کی طرح
دل میں خوشیاں رقص کرتی ہیں بہاروں کی طرح
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
مرحبا یا مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ !
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
حضور کی آمد ! مرحبا !
پُر نُور کی آمد ! مرحبا !
مرحبا یا مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ !
مبارک ہو وہ شہ پردے سے باہر آنے والا ہے
گدائی کو زمانہ جس کے در پر آنے والا ہے
مرحبا یا مصطفیٰ ! مرحبا یا مصطفیٰ !
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
حضور کی آمد ! مرحبا !
پُر نُور کی آمد ! مرحبا !
نُور آ گیا، نُور آ گیا
آیا نُور، چھایا نُور
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
آقا کی آمد ! مرحبا !
داتا کی آمد ! مرحبا !
سب جُھوم کے بولو ! مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
آج تو سارا جہاں ہے نُور میں ڈُوبا ہُوا
جس طرف دیکھو سماں ہے نُور میں ڈُوبا ہُوا
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشیاں لُٹانے آ گئے
آ گئے آقا نئی دنیا بسانے آ گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
آسماں پر چھا گئی ہیں رحمتوں کی بدلیاں
کون آئے ہیں کہ برسی چھم چھما چھم بُوندیاں
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
سلام مصطفیٰ ! سلام مصطفیٰ !
سلام مصطفیٰ ! سلام مصطفیٰ !
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوبِ سُبحانی !
سلام اے فخر موجودات فخرِ نوعِ انسانی !
سلام اُس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا
سلام اُس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بِچھونا تھا
سلام اُس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اُس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی
سلام اُس پر کہ جس نے چاند کو دو ٹُکڑے فرمایا
سلام اُس پر کہ جس کے حُکْم سے سُورج پلٹ آیا
سرکار کی آمد ! مرحبا !
دلدار کی آمد ! مرحبا !
مکّی کی آمد ! مرحبا !
مدنی کی آمد ! مرحبا !
آقا کی آمد ! مرحبا !
داتا کی آمد ! مرحبا !
سب جُھوم کے بولو ! مرحبا !
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور دائیں نُور بائیں، نُور آگے، پیچھے نُور
جُھرمٹوں میں نُور کے آئے سراپا رب کے نُور
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
زندگی بھر نعت کی محفل سجاتے جائیں گے
جیسے بھی حالات ہُوں اُن کا علم لہرائیں گے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
بارہویں کے دن میں جنّت کے نظارے چھا گئے
اُن کے قدموں میں، اُجاگر ! چاند تارے آ گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
نُور والے مصطفیٰ آ گئے چھا گئے
آ گئی ہے، چھا گئی ہے سبز جھنڈوں کی بہار
عیدِ میلاد النبی ہے جُھومو جُھومو، میرے یار !
میرے آقا آئے جُھومو
میرے داتا آئے جُھومو
سب کے ہامی آئے جُھومو
سب کے یاور آئے جُھومو
اِس طرف جو نُور ہے تو اُس طرف بھی نُور ہے
ذرّہ ذرّہ سب جہاں کا نُور سے معمور ہے
میرے آقا آئے جُھومو
میرے داتا آئے جُھومو
سب کے ہامی آئے جُھومو
سب کے یاور آئے جُھومو
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں