وہ دن آئے گا اک بار میں مدینے جاؤں گا | Wo Din Aayega Ek Baar Main Madine Jaunga Lyrics in Urdu
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
کرنے روضے کا دیدار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
شاہِ مدینہ، رحمتِ عالم، نبیوں کے سردار
دیکھیں، کب دِکھلائیں اپنا نُورانی دربار
میں تو ہُوں کب سے تیّار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
مجھ کو یقیں ہے، کرم کریں گے آمنہ بی کے لال
اُن کو تو معلوم ہے، واللہ ! میرے دل کا حال
کہتے ہیں یہ دِل کے تار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
دیکھا نہیں اُن کا در اب تک، کیا ہو گا انجام !
میرے دِل کی دھڑکن مجھ کو دیتی ہے پیغام
مرنے سے پہلے اِک بار میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
دیکھ کے مجھ عاصی کو اُن کو آ جائے گا پیار
نُورانی چادر میں چُھپا لیں گے اُس دم سرکار
لے کر جب اشکوں کے ہار میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
کیا غم ہے کہ جکڑے ہوئے ہے دُوری کی زنجیر
مِل جائے گی مجھ کو میرے خوابوں کی تعبیر
جس دن چاہیں گے سرکار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
ہے آمنہ میں مِیم، حلیمہ میں مِیم ہے
مِحراب میں ہے مِیم تو مِنبر میں مِیم ہے
مینار میں ہے مِیم تو مسجد میں مِیم ہے
ایمان میں ہے مِیم تو مسلم میں مِیم ہے
میلاد میں ہے میم تو محفل میں مِیم ہے
اِحرام میں ہے مِیم تو، زمزم میں مِیم ہے
پیغام میں ہے مِیم، پیغمبر میں مِیم ہے
پیام میں ہے مِیم، پیمبر میں مِیم ہے
اِسلام میں ہے مِیم تو مذہب میں مِیم ہے
نماز میں ہے مِیم تو کلمے میں مِیم ہے
احمد میں مِیم ہے تو محمّد میں مِیم ہے
مکّے میں مِیم ہے تو مدینے میں مِیم ہے
اِس مِیم کا ہے راز اَلِفْ لام مِیم میں
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
غوث و خواجہ، لال قلندر میرے سچّے پیر
اُن کی نسبت کا سرمایہ ہے میری جاگیر
وہ کر دیں گے بیڑا پار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
نعت خواں:
محمد راشد اعظم
سیدہ اریبہ فاطمہ
لائبہ فاطمہ
کرنے روضے کا دیدار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
شاہِ مدینہ، رحمتِ عالم، نبیوں کے سردار
دیکھیں، کب دِکھلائیں اپنا نُورانی دربار
میں تو ہُوں کب سے تیّار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
مجھ کو یقیں ہے، کرم کریں گے آمنہ بی کے لال
اُن کو تو معلوم ہے، واللہ ! میرے دل کا حال
کہتے ہیں یہ دِل کے تار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
دیکھا نہیں اُن کا در اب تک، کیا ہو گا انجام !
میرے دِل کی دھڑکن مجھ کو دیتی ہے پیغام
مرنے سے پہلے اِک بار میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
دیکھ کے مجھ عاصی کو اُن کو آ جائے گا پیار
نُورانی چادر میں چُھپا لیں گے اُس دم سرکار
لے کر جب اشکوں کے ہار میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
کیا غم ہے کہ جکڑے ہوئے ہے دُوری کی زنجیر
مِل جائے گی مجھ کو میرے خوابوں کی تعبیر
جس دن چاہیں گے سرکار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
ہے آمنہ میں مِیم، حلیمہ میں مِیم ہے
مِحراب میں ہے مِیم تو مِنبر میں مِیم ہے
مینار میں ہے مِیم تو مسجد میں مِیم ہے
ایمان میں ہے مِیم تو مسلم میں مِیم ہے
میلاد میں ہے میم تو محفل میں مِیم ہے
اِحرام میں ہے مِیم تو، زمزم میں مِیم ہے
پیغام میں ہے مِیم، پیغمبر میں مِیم ہے
پیام میں ہے مِیم، پیمبر میں مِیم ہے
اِسلام میں ہے مِیم تو مذہب میں مِیم ہے
نماز میں ہے مِیم تو کلمے میں مِیم ہے
احمد میں مِیم ہے تو محمّد میں مِیم ہے
مکّے میں مِیم ہے تو مدینے میں مِیم ہے
اِس مِیم کا ہے راز اَلِفْ لام مِیم میں
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
غوث و خواجہ، لال قلندر میرے سچّے پیر
اُن کی نسبت کا سرمایہ ہے میری جاگیر
وہ کر دیں گے بیڑا پار، میں مدینے جاؤں گا
وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا
نعت خواں:
محمد راشد اعظم
سیدہ اریبہ فاطمہ
لائبہ فاطمہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں