وہ میرا غنی میرا غنی میرا غنی ہے | Wo Mera Ghani Mera Ghani Mera Ghani Hai Lyrics in Urdu
باوفا باحیا، اعلیٰ و عالی صفا میرا عثمان
وہ جس کے وسیلے سے ہر اک بات بنی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
میرا مُرشِد، میرا مولا، میرا سُلطان ہے عثمان
میرا داتا، میرا آقا، میری پہچان ہے عثمان
سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے
سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے
جو جامعِ قرآن ہے، ہے عاملِ سُنّت
تا عُمْر دِیا جس نے ہمیں درسِ شریعت
وہ جس سے کلی دین کے گُلشن کی کِھلی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
جو فخرِ ابوبکر ہے، دامادِ نبی ہے
لو جس سے عُمَر اور علی کی بھی لگی ہے
اُس سا نہ زمانے میں کوئی آیا سخی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
عثمان کا دُشمن تو نبی کا بھی ہے دُشمن
دُشمن ہے خدا کا، وہ علی کا بھی ہے دُشمن
دوزخ کا وہ حقدار ہے، حق بات یہی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
ہو کیسے بیاں حضرتِ عثمان کی عظمت
قرآن کو پڑھتے ہوئے پائی ہے شہادت
وہ جس کی جبیں آگے نہ دُشمن کے جُھکی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
ہم اہلِ سُنن ہیں، یہ عقیدہ ہے ہمارا
جو اِس کو نہیں مانتا، اُس سے ہے کنارہ
ہر ایک صحابیِ نبی رب کا ولی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
سرکارِ دو عالم سے مِلا خُلد کا مُژدہ
خود جس سے حیا کرتے تھے سلطانِ مدینہ
ہے ناز فرشتوں کو، صدا اُن کی یہی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
ہم نغمۂ عثمان سدا گائیں گے، عاصِم !
یوں دُشمنِ عثمان کو تڑپائیں گے، عاصِم !
یوں عُمْر بسر ہو یہ تمنّائے دِلی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
شاعر:
محمد عاصم القادری مراد آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ غلام مصطفیٰ قادری
سید ریحان قادری
الحاج ساجد قادری
ساحل رضا قادری
وہ جس کے وسیلے سے ہر اک بات بنی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
میرا مُرشِد، میرا مولا، میرا سُلطان ہے عثمان
میرا داتا، میرا آقا، میری پہچان ہے عثمان
سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے
سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے
جو جامعِ قرآن ہے، ہے عاملِ سُنّت
تا عُمْر دِیا جس نے ہمیں درسِ شریعت
وہ جس سے کلی دین کے گُلشن کی کِھلی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
جو فخرِ ابوبکر ہے، دامادِ نبی ہے
لو جس سے عُمَر اور علی کی بھی لگی ہے
اُس سا نہ زمانے میں کوئی آیا سخی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
عثمان کا دُشمن تو نبی کا بھی ہے دُشمن
دُشمن ہے خدا کا، وہ علی کا بھی ہے دُشمن
دوزخ کا وہ حقدار ہے، حق بات یہی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
ہو کیسے بیاں حضرتِ عثمان کی عظمت
قرآن کو پڑھتے ہوئے پائی ہے شہادت
وہ جس کی جبیں آگے نہ دُشمن کے جُھکی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
ہم اہلِ سُنن ہیں، یہ عقیدہ ہے ہمارا
جو اِس کو نہیں مانتا، اُس سے ہے کنارہ
ہر ایک صحابیِ نبی رب کا ولی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
سرکارِ دو عالم سے مِلا خُلد کا مُژدہ
خود جس سے حیا کرتے تھے سلطانِ مدینہ
ہے ناز فرشتوں کو، صدا اُن کی یہی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
ہم نغمۂ عثمان سدا گائیں گے، عاصِم !
یوں دُشمنِ عثمان کو تڑپائیں گے، عاصِم !
یوں عُمْر بسر ہو یہ تمنّائے دِلی ہے
وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے
شاعر:
محمد عاصم القادری مراد آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ غلام مصطفیٰ قادری
سید ریحان قادری
الحاج ساجد قادری
ساحل رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں