آستاں ہے یہ احمد رضا خاں کا مرحبا مرحبا | Aastan Hai Ye Ahmad Raza Khan Ka Marhaba Marhaba Lyrics in Urdu
آستاں ہے یہ احمد رضا خاں کا، مرحبا مرحبا
یعنی عشق و محبّت کے سُلطان کا، مرحبا مرحبا
جام پر جام چلتا ہے عِرفان کا، مرحبا مرحبا
حال وہ ہے یہاں اہلِ وجدان کا، مرحبا مرحبا
ہوش رہتا نہیں ہے گِریبان کا، مرحبا مرحبا
شہرہ ہر سُو ہے جس کے قلم دان کا، مرحبا مرحبا
عُقدہ کُھلتا ہے فکرِ پریشان کا، مرحبا مرحبا
تن گیا سائباں ظلِّ سُبحان کا، مرحبا مرحبا
اللہ اللہ وہ عالم ہے فیضان کا، مرحبا مرحبا
لڑ گیا عرش سے پایہ اِنسان کا، مرحبا مرحبا
فکر کو آج دے گی عجب چاشنی، پھیل کر چاندنی
آج چمکا دے گی جادَۂ باطنی، پھیل کر چاندنی
عِشقِ سرکار کی بخشے گی راگنی، پھیل کر چاندنی
اب اُگائے گی گُل کاسنی کاسنی، پھیل کر چاندنی
چاند نکلا نقی کے شبستان کا، مرحبا مرحبا
جو بھی حالِ طریقت میں رنجیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
جتنے بزمِ ریاضت میں سنجیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
جو بھی اِس راہ کے صاحبِ دیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
راز جتنے بھی اوروں سے پوشیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
گُل ہے مارہرہ کے گُلستاں کا، مرحبا مرحبا
در پہ بُلوا لیا میرا رکّھا بھرم، یہ ہے تیرا کرم
دُھل گیا قلبِ رازی سے داغِ الم، یہ ہے تیرا کرم
میں ہُوا داخلِ اہلیانِ ہُمم، یہ ہے تیرا کرم
شرفِ رُویت مِلا میں ہُوا محترم، یہ ہے تیرا کرم
اللہ اللہ مُقدّر یہ مہمان کا، مرحبا مرحبا
شاعر:
میرزا امجد رازی
نعت خواں:
حافظ انس رضا عطاری
یعنی عشق و محبّت کے سُلطان کا، مرحبا مرحبا
جام پر جام چلتا ہے عِرفان کا، مرحبا مرحبا
حال وہ ہے یہاں اہلِ وجدان کا، مرحبا مرحبا
ہوش رہتا نہیں ہے گِریبان کا، مرحبا مرحبا
شہرہ ہر سُو ہے جس کے قلم دان کا، مرحبا مرحبا
عُقدہ کُھلتا ہے فکرِ پریشان کا، مرحبا مرحبا
تن گیا سائباں ظلِّ سُبحان کا، مرحبا مرحبا
اللہ اللہ وہ عالم ہے فیضان کا، مرحبا مرحبا
لڑ گیا عرش سے پایہ اِنسان کا، مرحبا مرحبا
فکر کو آج دے گی عجب چاشنی، پھیل کر چاندنی
آج چمکا دے گی جادَۂ باطنی، پھیل کر چاندنی
عِشقِ سرکار کی بخشے گی راگنی، پھیل کر چاندنی
اب اُگائے گی گُل کاسنی کاسنی، پھیل کر چاندنی
چاند نکلا نقی کے شبستان کا، مرحبا مرحبا
جو بھی حالِ طریقت میں رنجیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
جتنے بزمِ ریاضت میں سنجیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
جو بھی اِس راہ کے صاحبِ دیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
راز جتنے بھی اوروں سے پوشیدہ ہیں، تیرے گرویدہ ہیں
گُل ہے مارہرہ کے گُلستاں کا، مرحبا مرحبا
در پہ بُلوا لیا میرا رکّھا بھرم، یہ ہے تیرا کرم
دُھل گیا قلبِ رازی سے داغِ الم، یہ ہے تیرا کرم
میں ہُوا داخلِ اہلیانِ ہُمم، یہ ہے تیرا کرم
شرفِ رُویت مِلا میں ہُوا محترم، یہ ہے تیرا کرم
اللہ اللہ مُقدّر یہ مہمان کا، مرحبا مرحبا
شاعر:
میرزا امجد رازی
نعت خواں:
حافظ انس رضا عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں