مجھے مصطفٰی کے در سے بھلا کیا ملا نہیں ہے | Mujhe Mustafa Ke Dar Se Bhala Kya Mila Nahin Hai Lyrics in Urdu
مجھے مصطفٰی کے در سے بھلا کیا مِلا نہیں ہے
میں غلامِ مصطفٰی ہُوں، میرے پاس کیا نہیں ہے
یُونہی نعت پڑھتے پڑھتے کسی دن نکل پڑُوں گا
میرے واسطے مدینہ کوئی مسئلہ نہیں ہے
آیا جب بھی کوئی منگتا، اُسے پیٹ بھر کِھلایا
کئی دن سے گھر میں چُولھا علی کا جلا نہیں ہے
یہ حُسین ہی کا سر ہے، یہ حسین کا ہے سجدہ
جو جُھکا ہے کربلا میں ابھی تک اُٹھا نہیں ہے
یہی کہہ رہی ہے اصغر کے لبوں کی مُسکُراہٹ
وہاں زندگی نہیں ہے جہاں کربلا نہیں ہے
ارے بے خبر یزیدی ! تجھے کچھ پتا نہیں ہے
وہ نہیں ہے مصطفٰی کا، جو حُسین کا نہیں ہے
ادا حقِّ عبدِیت ہو، مجھے ایسی شب عطا کر
کہا رب سے فاطمہ نے، میرا دل بھرا نہیں ہے
جو تھا اہلِ حق کا مسلک، وہی ہے رضا کا مسلک
یہ تمہارا چھٹپٹانا کسی کام کا نہیں ہے
یُونہی آتشِ حسد میں جلو تم ہمیشہ حاسد
کیا مقامِ ازہری ہے تمہیں کچھ پتا نہیں ہے
یہ ہے روزِ حَشْر، زمزم ! یہاں ہے عجیب عالم
کوئی آدمی کسی کو یہاں پُوچھتا نہیں ہے
شاعر:
زمزم فتح پوری
نعت خوان:
زمزم فتح پوری
مفتی عارف رضا قریشی
میں غلامِ مصطفٰی ہُوں، میرے پاس کیا نہیں ہے
یُونہی نعت پڑھتے پڑھتے کسی دن نکل پڑُوں گا
میرے واسطے مدینہ کوئی مسئلہ نہیں ہے
آیا جب بھی کوئی منگتا، اُسے پیٹ بھر کِھلایا
کئی دن سے گھر میں چُولھا علی کا جلا نہیں ہے
یہ حُسین ہی کا سر ہے، یہ حسین کا ہے سجدہ
جو جُھکا ہے کربلا میں ابھی تک اُٹھا نہیں ہے
یہی کہہ رہی ہے اصغر کے لبوں کی مُسکُراہٹ
وہاں زندگی نہیں ہے جہاں کربلا نہیں ہے
ارے بے خبر یزیدی ! تجھے کچھ پتا نہیں ہے
وہ نہیں ہے مصطفٰی کا، جو حُسین کا نہیں ہے
ادا حقِّ عبدِیت ہو، مجھے ایسی شب عطا کر
کہا رب سے فاطمہ نے، میرا دل بھرا نہیں ہے
جو تھا اہلِ حق کا مسلک، وہی ہے رضا کا مسلک
یہ تمہارا چھٹپٹانا کسی کام کا نہیں ہے
یُونہی آتشِ حسد میں جلو تم ہمیشہ حاسد
کیا مقامِ ازہری ہے تمہیں کچھ پتا نہیں ہے
یہ ہے روزِ حَشْر، زمزم ! یہاں ہے عجیب عالم
کوئی آدمی کسی کو یہاں پُوچھتا نہیں ہے
شاعر:
زمزم فتح پوری
نعت خوان:
زمزم فتح پوری
مفتی عارف رضا قریشی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں