میں ہوں سنی اعلیٰ حضرت سے مری پہچان ہے | Main Hun Sunni Aala Hazrat Se Meri Pehchan Hai Lyrics in Urdu
رضا ہماری جان، رضا ہماری جان
رضا ہماری جان، رضا ہماری جان
عِشق و محبّت، عِشق و محبّت
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
عِلم و حکمت، عِلم و حکمت
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
اہلِ حق اہلِ محبّت کا یہی اعلان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
اعلیٰ حضرت بو حنیفہ کے ہوئے ہیں جا نشیں
جن کے آگے سب فقیہوں کی ہوئی ہے خم جبیں
دیکھیے احمد رضا کی کیا ہی اُونچی شان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
حضرتِ احمد رضا کے عُرْس کی ہر سُو ہے دُھوم
عاشقانِ مصطفیٰ کا ہے بریلی میں ہجوم
عام دنیا میں رضا کا ہر طرف فیضان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
اعلیٰ حضرت نے کِیا عشقِ نبی پر ایسا کام
اُن کو دنیا کَہہ اُٹھی عِشق و محبّت کا اِمام
عِشقِ آقا نے رضا کو کر دِیا ذیشان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
کنز الایماں اور فتاویٰ رضویہ لکھ کر دِیا
جو بُزُرگوں کا عقیدہ تھا اُسے نافِذ کِیا
اہلِ سُنّت پر رضا خاں کا بڑا احسان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
سیف ! جس کو اعلیٰ حضرت سے محبّت ہو گئی
اُس کے ایماں اور عقیدے کی حفاظت ہو گئی
میرے سر پر بھی رضا کا سایۂ دامان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خوان:
حافظ طاہر قادری
رضا ہماری جان، رضا ہماری جان
عِشق و محبّت، عِشق و محبّت
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
عِلم و حکمت، عِلم و حکمت
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
اہلِ حق اہلِ محبّت کا یہی اعلان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
اعلیٰ حضرت بو حنیفہ کے ہوئے ہیں جا نشیں
جن کے آگے سب فقیہوں کی ہوئی ہے خم جبیں
دیکھیے احمد رضا کی کیا ہی اُونچی شان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
حضرتِ احمد رضا کے عُرْس کی ہر سُو ہے دُھوم
عاشقانِ مصطفیٰ کا ہے بریلی میں ہجوم
عام دنیا میں رضا کا ہر طرف فیضان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
اعلیٰ حضرت نے کِیا عشقِ نبی پر ایسا کام
اُن کو دنیا کَہہ اُٹھی عِشق و محبّت کا اِمام
عِشقِ آقا نے رضا کو کر دِیا ذیشان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
کنز الایماں اور فتاویٰ رضویہ لکھ کر دِیا
جو بُزُرگوں کا عقیدہ تھا اُسے نافِذ کِیا
اہلِ سُنّت پر رضا خاں کا بڑا احسان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
سیف ! جس کو اعلیٰ حضرت سے محبّت ہو گئی
اُس کے ایماں اور عقیدے کی حفاظت ہو گئی
میرے سر پر بھی رضا کا سایۂ دامان ہے
میں ہُوں سُنّی اعلیٰ حضرت سے مِری پہچان ہے
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خوان:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں