میں نثار کیوں نہ رضا پہ ہوں مجھے جس نے رب سے ملا دیا | Main Nisar Kyun Na Raza Pe Hun Mujhe Jis Ne Rab Se Mila Diya Lyrics in Urdu
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
اُسی رب کا حمد سرا ہُوں میں، کہ شعورِ فکرِ رضا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
میں رضا رضا ہی کہا کروں، مجھے عِشْقِ شاہِ دنیٰ دِیا
مجھے بھیک لینے کے واسطے درِ مصطفیٰ کا پتا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
تِرے در سے شان صحابہ کی میرے ذہن و دل پر عیاں ہوئی
مجھے اہلِ بیت کا مرتبہ تِری فکر نے ہی بتا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
نہ جمالِ حق کا شعور تھا، نہ تھا فہمِ باطِل و باطِلاں
مجھے حق سے تو نے مِلا دِیا، مجھے راہِ حق پہ چلا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
تِرے نام پر میں فِدا ہُوا، مِرے لب پہ نام تیرا رہا
تِرے نام نے، تِرے عِشق نے مجھے نیک نام بنا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
نہ تھا کچھ شعورِ سُخَن وری، نہ تھا کچھ سلیقۂ نعت بھی
تِری نعت گوئی نے، اے رضا ! مجھے نعت پڑھنا سِکھا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
میں نِثار تیرے کلام پر، جو ہے مُنْفرِد اے میرے رضا !
سبھی کہہ رہے ہیں یہ برملا، تو نے جامِ عشق پِلا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
اے مُشاہدِ رضوی ! مجھے کیوں رضا پہ خوب نہ ناز ہو
کہ اسی نے ذوقِ سُخَن دِیا اور اُسی نے شوقِ ثنا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
شاعر:
محمد حسین مشاہد رضوی
نعت خواں:
محمد اشفاق عطاری مدنی
اُسی رب کا حمد سرا ہُوں میں، کہ شعورِ فکرِ رضا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
میں رضا رضا ہی کہا کروں، مجھے عِشْقِ شاہِ دنیٰ دِیا
مجھے بھیک لینے کے واسطے درِ مصطفیٰ کا پتا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
تِرے در سے شان صحابہ کی میرے ذہن و دل پر عیاں ہوئی
مجھے اہلِ بیت کا مرتبہ تِری فکر نے ہی بتا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
نہ جمالِ حق کا شعور تھا، نہ تھا فہمِ باطِل و باطِلاں
مجھے حق سے تو نے مِلا دِیا، مجھے راہِ حق پہ چلا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
تِرے نام پر میں فِدا ہُوا، مِرے لب پہ نام تیرا رہا
تِرے نام نے، تِرے عِشق نے مجھے نیک نام بنا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
نہ تھا کچھ شعورِ سُخَن وری، نہ تھا کچھ سلیقۂ نعت بھی
تِری نعت گوئی نے، اے رضا ! مجھے نعت پڑھنا سِکھا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
میں نِثار تیرے کلام پر، جو ہے مُنْفرِد اے میرے رضا !
سبھی کہہ رہے ہیں یہ برملا، تو نے جامِ عشق پِلا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
اے مُشاہدِ رضوی ! مجھے کیوں رضا پہ خوب نہ ناز ہو
کہ اسی نے ذوقِ سُخَن دِیا اور اُسی نے شوقِ ثنا دِیا
میں نِثار کیوں نہ رضا پہ ہُوں، مجھے جس نے رب سے مِلا دِیا
شاعر:
محمد حسین مشاہد رضوی
نعت خواں:
محمد اشفاق عطاری مدنی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں