سارا جہاں فدا ہے میلاد مصطفیٰ ہے | Sara Jahan Fida Hai Milad-e-Mustafa Hai Lyrics in Urdu
سارا جہاں فِدا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
ہر کوئی کہہ رہا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
صدیوں سے مُنتظر تھا جس نُور کا زمانہ
وہ نُور آ رہا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
بارہ ربیع الاوّل تجھ پر نِثار جاؤں
کیسا شرف مِلا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
سرکار کی آمد ! مَرحَبا !
دلدار کی آمد ! مَرحَبا !
آقا کی آمد ! مَرحَبا !
مولا کی آمد ! مَرحَبا !
سب جُھوم کے بولو ! مَرحَبا !
لب چُوم کے بولو ! مَرحَبا !
لَلکار کے بولو ! مَرحَبا !
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
سِدرہ سے لے کے اُترے جبریل تین جھنڈے
پیغام دے دِیا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
رونق لگی ہوئی ہے گھر آمِنہ کے آؤ
مکّے میں غُل اُٹھا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
رونق لگی ہوئی ہے گھر آمِنہ کے آؤ
گھر آمِنہ کے آؤ، گھر آمِنہ کے آؤ
بھر لو کرم نال جھولیاں، آ جاؤ منگتیو !
صبحِ صادق ہے، فقیرو ! آمِنہ کے گھر چلو
کاسہ لے کر، بے سہارو ! آمِنہ کے گھر چلو
خوب صدقہ بٹ رہا ہے، آمِنہ کے لعل کا
تاجدارو مالدارو ! آمِنہ کے گھر چلو
وہ اُٹھاتے ہیں سبھی ناداروں مِسکینوں کا بوجھ
اے ضعیفو ناتوانو ! آمِنہ کے گھر چلو
مانگ لو جو مانگنی ہے، اے اُجاگر ! نعمتیں
اپنا دامن تم پسارو، آمِنہ کے گھر چلو
جو مانگنا ہے مانگو، جو لینا ہے سو لے لو
سرکار کی آمد ! مَرحَبا !
دلدار کی آمد ! مَرحَبا !
آقا کی آمد ! مَرحَبا !
مولا کی آمد ! مَرحَبا !
سب جُھوم کے بولو ! مَرحَبا !
لب چُوم کے بولو ! مَرحَبا !
لَلکار کے بولو ! مَرحَبا !
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
بچپن میں سَیر اُن کو دنیا کی یوں کرائی
دنیا کا بادشاہ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
اُس پر درود بھیجو جس پر خدا نے بھیجا
کیا اُن کا مرتبہ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلاد کی، اُجاگَر ! محفل سجائی میں نے
گھر میرا سج گیا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
ہر کوئی کہہ رہا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
صدیوں سے مُنتظر تھا جس نُور کا زمانہ
وہ نُور آ رہا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
بارہ ربیع الاوّل تجھ پر نِثار جاؤں
کیسا شرف مِلا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
سرکار کی آمد ! مَرحَبا !
دلدار کی آمد ! مَرحَبا !
آقا کی آمد ! مَرحَبا !
مولا کی آمد ! مَرحَبا !
سب جُھوم کے بولو ! مَرحَبا !
لب چُوم کے بولو ! مَرحَبا !
لَلکار کے بولو ! مَرحَبا !
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
سِدرہ سے لے کے اُترے جبریل تین جھنڈے
پیغام دے دِیا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
رونق لگی ہوئی ہے گھر آمِنہ کے آؤ
مکّے میں غُل اُٹھا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
رونق لگی ہوئی ہے گھر آمِنہ کے آؤ
گھر آمِنہ کے آؤ، گھر آمِنہ کے آؤ
بھر لو کرم نال جھولیاں، آ جاؤ منگتیو !
صبحِ صادق ہے، فقیرو ! آمِنہ کے گھر چلو
کاسہ لے کر، بے سہارو ! آمِنہ کے گھر چلو
خوب صدقہ بٹ رہا ہے، آمِنہ کے لعل کا
تاجدارو مالدارو ! آمِنہ کے گھر چلو
وہ اُٹھاتے ہیں سبھی ناداروں مِسکینوں کا بوجھ
اے ضعیفو ناتوانو ! آمِنہ کے گھر چلو
مانگ لو جو مانگنی ہے، اے اُجاگر ! نعمتیں
اپنا دامن تم پسارو، آمِنہ کے گھر چلو
جو مانگنا ہے مانگو، جو لینا ہے سو لے لو
سرکار کی آمد ! مَرحَبا !
دلدار کی آمد ! مَرحَبا !
آقا کی آمد ! مَرحَبا !
مولا کی آمد ! مَرحَبا !
سب جُھوم کے بولو ! مَرحَبا !
لب چُوم کے بولو ! مَرحَبا !
لَلکار کے بولو ! مَرحَبا !
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
بچپن میں سَیر اُن کو دنیا کی یوں کرائی
دنیا کا بادشاہ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
اُس پر درود بھیجو جس پر خدا نے بھیجا
کیا اُن کا مرتبہ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلاد کی، اُجاگَر ! محفل سجائی میں نے
گھر میرا سج گیا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے
شاعر:
علامہ نثار علی اجاگر
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں