فاصلوں کو خدا را مٹا دو | جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں | Jaliyon Par Nigahen Jami Hain Lyrics in Urdu
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
اپنا جلوہ اسی میں دِکھا دو
جالوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
رُخ سے پردہ اب اپنے ہٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
غوث الاعظم ہو، غوث الوریٰ ہو
نُور ہو نُورِ صلِّ علیٰ ہو
کیا بیاں آپ کا مرتبہ ہو !
دستگیر اور مُشکِل کُشا ہو
آج دیدار اپنا کرا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
ایک مجرم سیاہ کار ہُوں میں
ہر خطا کا سزاوار ہُوں میں
میرے چاروں طرف ہے اندھیرا
روشنی کا طلب گار ہُوں میں
اِک دِیا ہی سمجھ کر جلا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
وجد میں آئے گا سارا عالم
ہم پُکاریں گے، یا غوثِ اعظم
وہ نکل آئیں گے جالیوں سے
اور قدموں میں گِر جائیں گے ہم
پھر کہیں گے کہ بِگڑی بنا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
سُن رہے ہیں وہ فریاد میری
خاک ہوگی نہ برباد میری
میں کہیں بھی مرُوں، شاہِ جِیلاں !
رُوح پہنچے گی بغداد میری
مجھ کو پرواز کے پر لگا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
ہر ولی آپ کے زیرِ پا ہے
ہر ادا مصطفیٰ کی ادا ہے
آپ نے دین زندہ کِیا ہے
ڈُوبتے کو سہارا دِیا ہے
میری کشتی کِنارے لگا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فِکْر دیکھو، خیالات دیکھو
یہ عقیدت یہ جذبات دیکھو
میں ہُوں کیا ! میری اوقات دیکھو
سامنے کس کی ہے ذات دیکھو
اے ادیب ! اپنے سر کو جُھکا لو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
شاعر:
ادیب رائے پوری
نعت خوان:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
غلام مصطفیٰ قادری
سید حسان اللہ حسینی
صابر رضا اظہری سورت
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
اپنا جلوہ اسی میں دِکھا دو
جالوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
رُخ سے پردہ اب اپنے ہٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
غوث الاعظم ہو، غوث الوریٰ ہو
نُور ہو نُورِ صلِّ علیٰ ہو
کیا بیاں آپ کا مرتبہ ہو !
دستگیر اور مُشکِل کُشا ہو
آج دیدار اپنا کرا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
ایک مجرم سیاہ کار ہُوں میں
ہر خطا کا سزاوار ہُوں میں
میرے چاروں طرف ہے اندھیرا
روشنی کا طلب گار ہُوں میں
اِک دِیا ہی سمجھ کر جلا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
وجد میں آئے گا سارا عالم
ہم پُکاریں گے، یا غوثِ اعظم
وہ نکل آئیں گے جالیوں سے
اور قدموں میں گِر جائیں گے ہم
پھر کہیں گے کہ بِگڑی بنا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
سُن رہے ہیں وہ فریاد میری
خاک ہوگی نہ برباد میری
میں کہیں بھی مرُوں، شاہِ جِیلاں !
رُوح پہنچے گی بغداد میری
مجھ کو پرواز کے پر لگا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
ہر ولی آپ کے زیرِ پا ہے
ہر ادا مصطفیٰ کی ادا ہے
آپ نے دین زندہ کِیا ہے
ڈُوبتے کو سہارا دِیا ہے
میری کشتی کِنارے لگا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فِکْر دیکھو، خیالات دیکھو
یہ عقیدت یہ جذبات دیکھو
میں ہُوں کیا ! میری اوقات دیکھو
سامنے کس کی ہے ذات دیکھو
اے ادیب ! اپنے سر کو جُھکا لو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
فاصلوں کو خُدا را مٹا دو
جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں
شاعر:
ادیب رائے پوری
نعت خوان:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
غلام مصطفیٰ قادری
سید حسان اللہ حسینی
صابر رضا اظہری سورت
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں