میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا یا غوث | Mere Labon Par Subh-o-Masa Hai Naam Tumhara Ya Ghous Lyrics in Urdu
غوث الاعظم دستگیر !
غوث الاعظم دستگیر !
جیلانی سرکار ! کر دو بیڑا پار
جھولی پھیلائے منگتے آئے تیرے دُوَار
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
تیرے نام پہ واری جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
تیری چوکھٹ پہ مر جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
غوثِ اعظم شاہِ جیلانی !
آپ رُتبے میں ہیں لا ثانی
آپ کے آگے بصد تعظیم
ہر ولی کی خم ہے پیشانی
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
بغداد کے والی، میراں !
میں تیرا سُوَالی، میراں !
چوکھٹ پہ کھڑا ہُوں، میراں !
میری جھولی بھر دو، میراں !
ولیوں کے ولی ہو، میراں !
میرے غوثِ جلی ہو، میراں !
قِبْلۂ اہلِ صفا ہو تم
تاجدارِ اولیا ہو تم
غوثِ اعظم ! قادریوں کا
دو جہاں میں آسرا ہو تم
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
تیرے در کی، شاہِ جیلانی !
اولیا کرتے ہیں دربانی
پنجتن کا تو ہے دل جانی
ہر طرف ہے تیری سُلطانی
تیرے نام پہ واری جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
تیری چوکھٹ پہ مر جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
جیلانی سرکار ! کر دو بیڑا پار
جھولی پھیلائے منگتے آئے تیرے دُوَار
پیرِ لا ثانی ہیں میرے پیر
کتنی عالی ہے میری تقدیر
غوث کی نظروں میں ہُوں ہر دم
کیوں چلے مجھ پر غموں کے تیر
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
سیف ! میں ہُوں غوث کا منگتا
اُن کے در کا کھاتا ہُوں صدقہ
مجھ کو محشر کا ہو کیوں کھٹکا
ہے گلے میں قادری پٹّا
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
بغداد کے والی، میراں !
میں تیرا سُوَالی، میراں !
چوکھٹ پہ کھڑا ہُوں، میراں !
میری جھولی بھر دو، میراں !
ولیوں کے ولی ہو، میراں !
میرے غوثِ جلی ہو، میراں !
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
غوث الاعظم دستگیر !
جیلانی سرکار ! کر دو بیڑا پار
جھولی پھیلائے منگتے آئے تیرے دُوَار
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
تیرے نام پہ واری جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
تیری چوکھٹ پہ مر جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
غوثِ اعظم شاہِ جیلانی !
آپ رُتبے میں ہیں لا ثانی
آپ کے آگے بصد تعظیم
ہر ولی کی خم ہے پیشانی
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
بغداد کے والی، میراں !
میں تیرا سُوَالی، میراں !
چوکھٹ پہ کھڑا ہُوں، میراں !
میری جھولی بھر دو، میراں !
ولیوں کے ولی ہو، میراں !
میرے غوثِ جلی ہو، میراں !
قِبْلۂ اہلِ صفا ہو تم
تاجدارِ اولیا ہو تم
غوثِ اعظم ! قادریوں کا
دو جہاں میں آسرا ہو تم
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
تیرے در کی، شاہِ جیلانی !
اولیا کرتے ہیں دربانی
پنجتن کا تو ہے دل جانی
ہر طرف ہے تیری سُلطانی
تیرے نام پہ واری جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
تیری چوکھٹ پہ مر جاؤں، یا غوث پِیا سرکار !
جیلانی سرکار ! کر دو بیڑا پار
جھولی پھیلائے منگتے آئے تیرے دُوَار
پیرِ لا ثانی ہیں میرے پیر
کتنی عالی ہے میری تقدیر
غوث کی نظروں میں ہُوں ہر دم
کیوں چلے مجھ پر غموں کے تیر
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
سیف ! میں ہُوں غوث کا منگتا
اُن کے در کا کھاتا ہُوں صدقہ
مجھ کو محشر کا ہو کیوں کھٹکا
ہے گلے میں قادری پٹّا
میرے لبوں پر صبح و مسا ہے نام تمہارا، یا غوث !
میری طرف بھی لُطْف و کرم کا کر دو اِشارہ، یا غوث !
بغداد کے والی، میراں !
میں تیرا سُوَالی، میراں !
چوکھٹ پہ کھڑا ہُوں، میراں !
میری جھولی بھر دو، میراں !
ولیوں کے ولی ہو، میراں !
میرے غوثِ جلی ہو، میراں !
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں